اگر ایک آدمی بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو وہ دوسری رکعت میں تشہد کے لیے بیٹھنے کی بجائے ہاتھ بیٹھے ہوئے باندھے اور یاد آتے ہی فوراً ہی کھول دیئے۔ اب کیا مسئلہ ہے کہ سجدہ سہو واجب ہوا یا نہیں؟
آیا اسی طرح آخری رکعت میں کیا تو کیا حکم ہے؟ آیا اس کو بھی اُسی پر قیاس کریں جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے، یا اس کا اور حکم ہے؟
اگر اس طرح ہاتھ باندھنے کے بعد کچھ پڑھا نہ ہو کہ یاد آنے پر فوراً کھول دیئے ہوں تو اس صورت میں نماز بلاشبہ درست ادا ہو گئی ہے، اس پر سجدہ سہو بھی واجب نہیں، بشرطیکہ تین تسبیح کے بقدر تاخیر نہ ہوئی ہو۔
ففی الفتاوى الهندية: ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره اھ (1/ 126)