سوال یہ ہےکہ سجدہ میں اگر پیروں کی دو انگلیاں زمین پر ٹِکی ہوئی ہوں، قبلہ رُخ نہ ہو تو کیا سجدہ نہیں ہوتا یا ہو جاتا ہے؟ میں نے سُنا ہے کہ سجدہ میں پیروں کی انگلیاں قبلہ رُخ ہونی چاہیے اگر نہ ہو تو ثواب کم ملےگا، مگر سجدہ ہو جائےگا۔
اگرچہ دورانِ نماز سجدہ کے مستحبات اور آداب میں سے ہے کہ اُنگلیاں بھی قبلہ رُخ اور زمین پر ٹکی ہوئی ہوں، تاہم اگر کسی نے بے احتیاطی میں اُن کا رُخ قبلہ کی طرف موڑنے کا اہتمام نہ کیا تو اس کی نماز بلاشبہ ادا ہی شمار ہوگی، مگر اس ادب اور مستحب کو ترک کرنے پر ثواب میں کمی ضرور ہوگی۔
ففی الفتاوى الهندية: ويضع يديه في السجود حذاء أذنيه ويوجه أصابعه نحو القبلة وكذا أصابع رجليه اھ (1/ 75)
وفی حاشية ابن عابدين: ومن سنن السجود أن يوجه أصابعه نحو القبلة، لما في صحيح البخاري وسنن أبي داود عن أبي حميد - رضي الله عنه - في صلاة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «فإذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما، واستقبل بأطراف أصابع رجليه إلى القبلة». اهـ. (1/ 504)