السلام علیکم جناب مفتی صاحب! ایک سوال میرے ساتھی نے پوچھا ہے کہ جمعہ کے دن جمعہ کے دو فرض سے پہلے کیا ظہر کی نماز کے چار فرض پڑھ سکتے ہیں؟
سوال میں اس بات کا وضاحت نہیں کہ جمعہ سے پہلے ظہر کی چارکعت فرض نماز کوں پڑھنا چاہتا ہے اور سائل کے ساتھی کا کیا مقصد ہے تاکہاس کے مطابق جواب دیا جاتا تاہم جمعہ کے دن بغیر کسی عذر کے جمعہ کی نماز چھوڑ کر جمعہ سے پہلے قصداً ظہر کی نماز ادا کرنا ناجائز اورحرام ہے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی عذرِشرعی (بیماری وغیرہ ) ہو اور اس عذر کی وجہ سے جمعہ کی جماعت میں حاضری دشوارہو تو ایسی صورت میں اپنی انفرادی نماز میں دو رکعت کے بجائے ظہر کی چار رکعت پڑھنا لازم ہے چنانچہ ظہر کی چار رکعت پڑھنے سے اس کی نماز درست ادا ہو جائےگی ،لیکن شہر میں جمعہ کی نماز کیساتھ ظہر کی نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔
وفی در المختار : «وحرم لمن لا عذر له صلاة الظهر قبلها) أما بعدها فلا يكره غاية (في يومها بمصر) لكونه سببا لتفويت الجمعة، وهو حرام» الخ (باب الجمعۃ ،ص:110 ناشر : بیروت )
وفی فقہ الاسلام وادلتہ: قال الحنفیۃ: من صلی الظہر فی منزلہ یوم الجمعۃ قبل صلاۃ الامام ولاعذر لہ حرم ذلک وجازت صلاتہ جوازا موقوفا ،الخ(المطلب التاسع صلاۃ الظہر یوم الجمعۃ،ج:2 ص: 1332 ناشر: رشیدیہ)
وفیہ ایضاً : اذا انتھی وقت الظہر أو ضاق عن الجمعۃ بأن لم یبق منا ما یسع الخطبۃ والرکعتین سقطت الجمعۃ فلاتقضی الجمعۃ باتفاق العلماء وانما تصلی الظہر الخ،(المطلب التاسع صلاۃ الظہر یوم الجمعۃ،ج:2 ص:1335 ناشر: رشیدیہ)
وفی حاشیۃ ابن العابدین : «وأجاب في البحر بأن الحرام هو ترك السعي المفوت لها أما صلاة الظهر قبلها فغير مفوتة للجمعة حتى تكون حراما فإن سعيه بعدها للجمعة فرض كما صرحوا به، وإنما تكره الظهر قبلها لأنها قد تكون سببا للتفويت باعتماده عليها وهم إنما حكموا بالكراهة على صلاة الظهر لا على ترك الجمعة اهـ ملخصا واستحسنه في النهر»الخ ( باب الجمعۃ ،ج: 2 ص: 255 ناشر : سعید )