میں ایک طلاق یافتہ ہوں، میرا خرچہ میرے والد صاحب اٹھاتے ہیں، میرے پاس ایک تولہ چاندی اور ڈھائی تولے سے زیادہ لیکن تین تولوں سے کم سونا ہے، اس کے علاوہ میری ایک 30,000 روپے کی کمیٹی نکلی تھی، جو نقد رقم کی صورت میں میرے پاس موجود ہے، یہ رقم میں نے اپنی آئندہ ضروریات کے لیے رکھی تھی، لیکن ابھی تک خرچ نہیں ہوئی، اور اسے رکھے ہوئے چند ماہ ہوگئے ہیں،براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ان تمام چیزوں پر زکوٰۃ کتنی واجب ہوگی؟ اور یہ زکوٰۃ کون ادا کرے گا، میں خود یا میرے والد صاحب؟ اگر میرے والد صاحب میری طرف سے زکوٰۃ ادا کر دیں تو کیا میری زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟مزید یہ بھی بتا دیجیے کہ کیا میری اس مالی حالت کے پیشِ نظر میرے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم لینا شرعاً جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کی ملکیت میں موجود سونا، چاندی اور نقد رقم کی مجموعی مالیت،نصابِ زکوٰۃ (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اور اس مال پر قمری سال بھی گزر چکا ہو، تو سائلہ پر مجموعی مال کا ڈھائی فیصد %2.5 بطورِ زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے،جبکہ زکوٰۃ کی ادائیگی شرعاً خود صاحبِ مال کی ذمہ ہوتی ہے ، لہٰذازکوٰۃ کی ادائیگی کی اصل ذمہ داری تو خود سائلہ پر عائد ہوتی ہے، البتہ اگر والد صاحب سائلہ کی اجازت سے اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کردے، تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی،جہاں تک بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مالی امداد لینے کا تعلق ہے، تو اگر سائلہ اس پروگرام کے قانونی معیار کے مطابق مستحق ہو ، تو اس پروگرام کی امداد لینا جائز ہوگا،ورنہ نہیں۔
کما فی الھندیۃ: وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز اھ (کتاب الزکوٰۃ، الباب الثالث، الفصل الثانی، ج:1، ص:179، م:رشیدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: اذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز اھ (كتاب الزكوة، الباب الاول فى تفسير الزكوة، ج:1، ص:171، ط:مكتبه رشيديه)۔
وفی بدائع الصنائع: لو تصدق عن غيره بغير أمره فإن تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه و لاتجوز عن غيره و إن أجازه و رضي به، أما عدم الجواز عن غيره فلعدم التمليك منه إذ لا ملك له في المؤدى و لايملكه بالإجازة فلاتقع الصدقة عنه و تقع عن المتصدق؛ لأن التصدق وجد نفاذًا عليه، و إن تصدق بمال المتصدق عنه وقف على إجازته فإن أجاز و المال قائم جاز عن الزكاة و إن كان المال هالكًا جاز عن التطوع ولم يجز عن الزكاة؛ لأنه لما تصدق عنه بغير أمره وهلك المال صار بدله دينًا في ذمته فلو جاز ذلك عن الزكاة كان أداء الدين عن الغير و أنه لايجوز، والله أعلم (کتاب الزکوٰۃ، فصل شرائط رکن الزکوٰۃ، ج:2، ص:45، م:دارالکتب العلمیہ)۔
وفیھا ایضاً: وأما مقدار الواجب فيها فربع العشر وهو خمسة من مائتين؛ للأحاديث التي روينا إذ المقادير لا تعرف إلا توقيفا وقوله صلى الله عليه وسلم: «هاتوا ربع عشور أموالكم» وخمسة من مائتين ربع عشرها اھ (فصل مقدار الواجب في زكاة الفضة، ج:2، ص:18، م: دارالکتب العلمیہ)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1