مباحات

کراٹے سیکھنے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
96938
| تاریخ :
2026-06-29
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کراٹے سیکھنے کی ایک صورت کا حکم

آج کل اسلاموفوبیا میں اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے مقامات پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غیر مسلم افراد مختلف مارشل آرٹس کی باقاعدہ تربیت اور مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کے لیے شریعت میں چہرے پر ضرب لگانے اور بلا ضرورت نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے۔
**Combat Sambo** ایک روسی مارشل آرٹ ہے، جس میں اسٹرائیکنگ (ضربیں لگانا)، جودو اور ریسلنگ شامل ہیں۔اس کھیل میں بنیادی پوائنٹس پٹخنے، زمین پر قابو میں رکھنے اور گرفت کے ذریعے حریف کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے پر ملتے ہیں، جبکہ اسٹرائیکنگ پر پوائنٹس نہیں ملتے، البتہ حریف کو ناک آؤٹ کرکے بھی مقابلہ جیتا جا سکتا ہے۔ اس کھیل میں عام طور پر شارٹس پہنے جاتے ہیں، تاہم میری معلومات کے مطابق گھٹنوں کو ڈھانپنے کے لیے کمپریشن پینٹس بھی پہنی جا سکتی ہیں۔
مارشل آرٹس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی فنِ قتال میں مہارت حاصل کرنے کے لیے صرف مشق کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے مقابلوں (Competitions) میں حصہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔
لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان کا مقصد اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو، نہ کہ کسی کو بلا وجہ نقصان پہنچانا، تو کیا اس نیت سے **Combat Sambo** کے مقابلوں میں حصہ لینا شرعاً جائز ہے، جبکہ اس کھیل میں چہرے پر ضرب لگانے اور ناک آؤٹ کرنے کی بھی گنجائش موجود ہے؟ قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہماری معلومات کے مطابق (Combat sambo) مارشل آرٹ کی ایک قسم ہے۔ اس کھیل کے اصول و ضوابط میں فریق ِمخالف کو لاتیں مارنا، ہاتھوں اور پیروں کے جوڑوں کو زور سے مروڑنا، منہ، چہرے اور سر پر مکے مارنا اور فریق مخالف کو ناک آؤٹ (Knockout) پر مجبور کرنے کے لیے مختلف قسم کے حربہ استعمال کرنا وغیرہ جیسے ضرر رساں اموركو کھیل کا قانونی حصہ قرار دیا گیا ہے، نیز اس کھیل میں عموماً ایسا لباس استعمال کیا جاتا ہے جس میں مردوں کا ستر کھلا رہتا ہے، چونکہ مذکور کھیل خلاف شرع امور پر مشتمل ہے، لہذا اس کھیل سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ تاہم شرعی تعلیمات میں صحت کی حفاظت کی ترغیب دی گئی ہے اور ایک قوی اور مضبوط مسلمان کو کمزور کے مقابلے میں بہتر قرار دیا گیا ہے، لہذا صحت مند رہنے کے لیے ہر ایسی ورزش یا کھیل وغیرہ اختیار کرنا چاہیے جو خلافت شرع امور (مثلاً: چہرے یا سر پر مارنے، ستر کھلا رکھنے وغیرہ) پر مشتمل نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

لما في سنن ابن ماجه: حدثنا محمد بن يحيى ، حدثنا عبد الرزاق ، انبانا معمر ، عن جابر الجعفي ، عن عكرمة ، عن ابن عباس ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا ضرر ولا ضرار". (رقم الحديث: 2341)

الهندية: المصارعة بدعة وهل تترخص للشبان؟ قال - رحمه الله تعالى - ليست ببدعة وقد جاء الأثر فيها إلا أنه ينظر إن أراد بها التلهي يكره له ذلك ويمنع عنه وإن أراد تحصيل القوة ليقدر على المقاتلة مع الكفرة فإنه يجوز ويثاب عليه وهو كشرب المثلث إذا أراد التطرب والتلهي يمنع عنه ويزجر وإن كان مقاتلا وأراد به القوة والقدرة عليها جاز ذلك كذا في جواهر الفتاوى. (352/5، دار الفكر)

الهندية: ويجوز أن ينظر الرجل إلى الرجل إلا إلى عورته كذا في المحيط وعليه الإجماع، كذا في الاختيار شرح المختار. وعورته ما بين سرته حتى تجاوز ركبته، كذا في الذخيرة وما دون السرة إلى منبت الشعر عورة في ظاهر الرواية. (327/5)

تكملة فتح الملهم: فالضابط في هذا الباب -عند مشايخنا الحنفية- المستفاد من أصولهم وأقوالهم... أن الله‍و المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش ولاالمعاد : حرام أو مكروه تحريما. وهذا أمر مجمع عليه في الأمة، متفق عليه بين الأئمة...(وأما لم يرد فيه النهي عن الشارع، وفيه فائدة ومصلحة للناس فهو بالنظر الفقهي على نوعين: الاول :ما شهدت التجربة بان ضرره أعظم من نفعه، و مفاسده أغلب على منافعه، وأنه من إشتغل به الهاه عن ذكر الله وحده، وعن الصلوات والمساجد : التحق ذلك بالمنهي عنه، لاشتراك العلة، فكان حراما او مكروها.)(والثاني ما ليس كذلك فهو أيضا إن شتغل به بنية التلاهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح بل قد يرتقي الى درجة الإستحباب أو أعظم منه.)هذه خلاصة ما توصل إليه والدي الشيخ المفتي محمد شفيع في احكام القران.
وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزه في نفسها ما لم تشتمل على معصيه أخرى ،وما لم يؤدي الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه ودنياه،والله سبحانه أعلم (257/4، ط: دار العلوم كراتشي)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس آفریدی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96938کی تصدیق کریں
0     27
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات