مباحات

پہلے بچوں کی پرورش میں حرج کی وجہ سے حمل ساقط کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
96255
| تاریخ :
2026-06-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

پہلے بچوں کی پرورش میں حرج کی وجہ سے حمل ساقط کرنا جائز ہے؟

میرا سوال یہ ہے کہ مجھے حمل کو تقریباً بیس دن ہوئے ہیں۔ میرا ایک بیٹا ہے جو جسمانی طور پر بہت کمزور ہے اور ابھی تک بیٹھ بھی نہیں سکتا۔ اس سے بڑی میری ایک چار سالہ بیٹی ہے جو جسمانی اور ذہنی دونوں اعتبار سے مکمل طور پر معذور ہے۔ایسی صورتِ حال میں، اگر میں یہ حمل ضائع کروا دوں تو کیا یہ شرعاً جائز ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور حمل برقرار رکھنے کی صورت میں حمل یا عورت کی جان کو خطرہ ہو ، یا ان کی صحت کو شدید نقصان پہنچنے کا یقین ہو ، یا چھوٹے بیٹے کی دیکھ بال اور پرورش صحیح طور پر نہ ہوسکتی ہو، تو ایسی صورت میں حمل میں جان پڑنے سے قبل جس کی مدت چار ماہ ہے،حمل کے ساقط کرنے کی گنجائش ہے ، البتہ بغیر کسی شرعی عذر یا مستقبل کے موہوم خطرات کے پیش نظر چارماہ سے کم مدت کے حمل کو گرانا بھی جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: «العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي.وفي اليتيمة سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور فقال أما في الحرة فلا يجوز قولا واحدا وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه والصحيح هو المنع كذا في التتارخانية.ولا يجوز للمرضعة دفع لبنها للتداوي إن أضر بالصبي كذا في القنية.امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.وهكذا في فتاوى قاضي خان.» الخ (الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات ج:5 ص:356 ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96255کی تصدیق کریں
0     3
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات