کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر امام صاحب سورہ والنازعات غرقا کی ابتداء سے تلاوت کرتا ہے اور آیت :﴿إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى﴾ کی اس طرح تلاوت کرتا ہے:﴿إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ﴾ اور درمیان میں چھوڑ کر کہتا ہے: ﴿فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى﴾
کیا اس طرح پڑھنے سے نماز ہوجائے گی؟ دلائل کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
صورت مسئولہ آیت کا مذکور حصہ چھوڑنے کی وجہ سے معنی میں فحش تبدیلی واقع نہیں ہوئی ،ا س لیے اس طرح کرنے سے نماز درست ادا ہوگی۔
کما فی الدر المختار: «ولو زاد كلمة أو نقص كلمة أو نقص حرفا،أو قدمه أو بدله بآخر نحو من ثمره إذا أثمر واستحصد - تعالى جد ربنا - انفرجت بدل - انفجرت - إياب بدل - أواب - لم تفسد ما لم يتغير المعنى إلا ما يشق تمييزه كالضاد والظاء فأكثرهم لم يفسدها وكذا لو كرر كلمة؛ وصحح الباقاني الفساد إن غير المعنى نحو. رب رب العالمين للإضافة كما لو بدل كلمة بكلمة وغير المعنى نحو: إن الفجار لفي جنات؛ وتمامه في المطولات اھ (باب الامامة،ج:1،ص:632،ط:سعيد)