احکام نماز

قعدہ میں درودشریف مکمل ہونے سے پہلے امام سلام پھیردے تومقتدی کیلئے کیاحکم ہے؟

فتوی نمبر :
9603
| تاریخ :
2010-09-06
عبادات / نماز / احکام نماز

قعدہ میں درودشریف مکمل ہونے سے پہلے امام سلام پھیردے تومقتدی کیلئے کیاحکم ہے؟

جناب میرا نام کامران علی ہے اور میں شارجہ میں ملازمت کرتا ہوں ، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں قرآن آہستہ پڑھتا ہوں، تیز پڑھنا بھی چاہوں تو لقنت کی وجہ سے نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح جب میں نماز پڑھتا ہوں تو اکثر سلام سے پہلے درود شریف تک نوبت نہیں آتی، اور امام صاحب سلام پھیر لیتے ہیں، کیا بغیر درود شریف کے میری نماز ہو جاتی ہے؟ حالانکہ تیز پڑھنے کی بہت کوشش کی، مگر پھر غلطیاں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں، جس سے ڈرتا بھی ہوں کہ جان بوجھ کر غلط پڑھنا اور بھی گناہ ہے۔
۲۔ جناب کیا جماعت اور سنت، نفل کی نماز میں رکوع کے بعد کھڑے ہوتے ہیں، اور سمع اللہ لمن حمدہ پڑھتے ہیں، کیا اس کے بعد دل میں یا زور سے اللہ سے دُعا مانگی جا سکتی ہےسجدہ میں جانے سے پہلے؟ میں آپ کا بہت ممنون ہوں گا!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱،۲۔ سائل کو چاہیے کہ اپنی نماز میں روانگی پیدا کرے ، اور امام کے ساتھ تشہد، درود شریف اور دعا بھی پڑھے، تاہم اگر اس کا درود شریف یا دعا پڑھنے سے قبل امام سلام پھیر دے ، تو اُسے بھی امام کی تابعداری میں سلام پھیر دینا چاہیئے، اس کی نماز ادا ہو جائے گی۔
جبکہ سنن اور نوافل میں قومہ کے اندر ربنا لک الحمد کے بعد منقول دعائیں پڑھنا جائز بلکہ بہتر اور افضل ہے، البتہ فرض نماز کی جماعت میں ایسا کرنا سنت سے ثابت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: سلم الإمام في آخر الصلاة قبل أن يتم المقتدي التشهد فالمختار أن يتم التشهد كذا في الغياثية وإن لم يتم أجزأه اھ(1/ 90)
وفی الدر المختار: (بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز؛ ولو سلم والمؤتم في أدعية التشهد تابعه لأنه سنة والناس عنه غافلون اھ (1/ 496)
وفیه أیضا: (وليس بينهما ذكر مسنون، وكذا) ليس (بعد رفعه من الركوع) دعاء، وكذا لا يأتي في ركوعه وسجوده بغير التسبيح (على المذهب) وما ورد محمول علی النفل اھ (1/ 505)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وليس بينهما ذكر مسنون) (إلی قوله) وعدم كونه مسنونا لا ينافي الجواز اھ (1/ 505) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 9603کی تصدیق کریں
0     1133
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات