مباحات

ایک وارث ترکہ میں دیگر ورثاء کے افعال سے مطمئن نہ ہو تو منع کر سکتاہے؟

فتوی نمبر :
95987
| تاریخ :
2026-06-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ایک وارث ترکہ میں دیگر ورثاء کے افعال سے مطمئن نہ ہو تو منع کر سکتاہے؟

السلام علیکم !حضرت !میرے والد صاحب نے وراثت میں جو زمین چھوڑی ہے، اسکی دو اقسام ہیں۔
1: وہ زمین جو انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو دی تھی۔
2: وہ زمین جو انکی وراثت ہے، لیکن ہم بھائیوں کی مشترکہ ہے،
میرا سوال یہ ہے کہ میرے بھائی میری مرضی کے بغیر اس زمین میں کام کر رہے ہیں، مجھے حصہ بھی دے رہے ہیں، لیکن میں اس سے مطمئن نہیں ہوں، آپ مجھے شرعی لحاظ سے رہنمائی فرمائیں کہ آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ممکن ہو تو سافٹ میں ارسال کر دیں شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسؤلہ میں سائل کے والدِ مرحوم نے اپنی زندگی میں جو زمین اپنی اولاد کو دی تھی،اگر وہ باقاعدہ مالکانہ قبضہ اور تصرف کے ساتھ دی ہوتو اولاد اس زمین کی مالک بن چکی ہے، لہذا والد کے انتقال کے بعد وہ زمین ترکہ میں شامل نہیں ہوگی،جبکہ وہ زمین جو والد مرحوم کے انتقال کے بعد بطورِ ترکہ تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت بن چکی ہے ،اس زمین میں کسی ایک وارث کادوسرے ورثاء کی اجازت ومرضی کے بغیر تصرف کرناشرعاً جائز نہیں، لہذااگر سائل متروکہ زمین کے مشترکہ انتظام پر راضی نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ اپنےبھائیوں سے تقسیم جائیداد کا مطالبہ کرکے اپنے حصے پر اپنی مرضی سے تصرف کرسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: و منھا أن یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ(کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 374، ط: ماجدیۃ )۔
و فیھا ایضاً: و لا یتم حکم الھبۃ الا مقبوضاً و یستوی فیہ الاجنبی و الولد إذا کان بالغاً ھکذا فی المحیط الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 377، ط: ماجدیۃ )۔
وفي الهداية: الشركة ضربان: شركة أملاك، وشركة عقود فشركة الأملاك العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي الخ (کتاب الشرکۃ، ج: 3، ص: 3، ط: رحمانیہ)۔
وفی مجلۃ الاحکام العدلیۃ:"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص27،ط؛دار الجیل)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95987کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات