مباحات

شادی کے بعد بیوی کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا

فتوی نمبر :
95568
| تاریخ :
2026-05-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

شادی کے بعد بیوی کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا

السلام علیکم!
کیا خواتین کا شادی کے بعد اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کے نام کو جوڑنا شرعی لحاظ سے درست ہے یا نہیں؟یعنی کسی خاتون کا اپنے والد کے نام کی جگہ اپنے شوہر کا نام استعمال کرنا اپنے نام کے ساتھ۔ برائے مہربانی قران و حدیث کی روشنی میں اسے بتا دیجئے۔ شکریہ!


الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بیوی کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانے سے مقصد چونکہ نسب میں تبدیلی نہیں ، بلکہ محض پہچان کیلئے بطور لاحقہ شوہر کا نام لگایا جاتا ہے، تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ یہ فلاں کی بیوی ہے ، لہذا ایسا کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن المجید: ﴿ اِمْرَاَةَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَةَ لُوْطٍ، كَانتا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ ﴾(التحریم:10)
وفي سنن أبي داود: حدثنا ‌مسدد ‌وسليمان بن حرب المعنى قالا: نا ‌حماد، عن ‌هشام بن عروة ، عن ‌أبيه ، عن ‌عائشة «أنها قالت: يا رسول الله، ‌كل ‌صواحبي لهن كنى. قال: فاكتني بابنك عبد الله يعني ابن اختها. قال مسدد: عبد الله بن الزبير. قال: فكانت تكنى بأم عبد الله» قال ‌أبو داود : هكذا رواه قران بن تمام ومعمر جميعا عن هشام نحوه، ورواه أبو أسامة، عن هشام، عن عباد بن حمزة، وكذلك حماد بن سلمة(‌‌باب في المرأة تكنى ج:4 ص:448 ناشر:المطبعة الأنصارية بدهلي- الهند)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95568کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات