مباحات

عورت کا آنلائن قرآن پڑھانا اور آڈر لے کر کیک بناکر دینے کا حکم

فتوی نمبر :
95399
| تاریخ :
2026-05-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

عورت کا آنلائن قرآن پڑھانا اور آڈر لے کر کیک بناکر دینے کا حکم

میں ایک مدرسے کی طالبہ ہوں اور آنلائن قرآن پڑھاتی ہوں، کیا یہ شریعت کی رو سے جائز ہے ؟میری والدہ اور بہن گھر سے آنلائن کیک کے آڈر لیتی ہیں تو کیا یہ شریعت کی رو سے جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ شرعی حدود، پردے اور دینی آداب کی رعایت کرتے ہوئے صرف خواتین، بچیوں یا کم عمر بچوں کو آن لائن قرآنِ کریم کی تعلیم دیتی ہے تو یہ عمل شرعاً جائز، بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے، البتہ حتی الامکان ویڈیو کال کے بجائے صرف آڈیو پر اکتفا کیا جائے تاکہ فتنہ سے بچا جاسکے۔ نیز سائلہ کی والدہ اور بہن کا گھر سے آن لائن کیک کے آڈر لینا اور جائز اشیاء کا کاروبار کرنا بھی شرعاً جائز ہے، کیونکہ حدودِ شرع میں رہتے ہوئے خواتین کا جائز کاروبار کرنا ممنوع نہیں، تاہم غیر محرم مردوں سے بلا ضرورت اختلاط اور دیگر خلافِ شرع امور سے اجتناب ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: (قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ (6 / 55)
وفی بحوث في قضايا فقهية معاصرة: إن الشريعة لم تأذن للمرأة بالخروج من دارها إلا لحاجة ملحة، وقد ألزم أباها وزوجها بأن يكفل لها بجميع حاجاتها المالية………..أما إذا كانت المرأة ليس لها زوج أو أب، أو غيرهما من أقاربهاالذين يكفلون لها بالمعيشة، وليس عندها من المال ما يسد حاجتها، فحينئذ يجوز لها أن تخرج للاكتساب بقدر الضرورة، ملتزمة بأحكام الحجاب. (337/1)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95399کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات