مباحات

اپنی گندم ذخیرہ کرنے پر گناہ ہوگا یا نہیں؟

فتوی نمبر :
95246
| تاریخ :
2026-05-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اپنی گندم ذخیرہ کرنے پر گناہ ہوگا یا نہیں؟

سوال:
ایک کسان نے اپنی زمین پر گندم پیدا کی۔ موجودہ مارکیٹ ریٹ تقریباً 9ہزار روپے فی بوری ہے جبکہ ڈیزل، کھاد، بجلی، بیج، ٹریکٹر اور مزدوری کے اخراجات بہت زیادہ ہو چکے ہیں، اور اس ریٹ پر فروخت کرنے سے نقصان ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کسان نے اپنی گندم کچھ عرصہ کے لیے ذخیرہ کرلی تاکہ بعد میں مناسب قیمت ملنے پر فروخت کرے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ذخیرہ اندوزی اور گناہ ہے۔ شرعی حکم کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ فقہاء کرام ۔رحمہم اللہ ۔ کی تصریحات کے مطابق ذاتی زمین کی پیداوار،چونکہ مالک کا خالص حق ہوتا ہے اس کے ساتھ عام لوگوں کا حق وابستہ نہیں ہوچکا ہو تا، اس لئےاپنی زمین کی پیداوار سٹاک کرنا ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں داخل نہیں ،لہذا اگرکوئی کسان اپنی زمین کی پیداوار(گندم)کچھ وقت کے لئے سٹاک کرے تو اسے ذخیرہ اندوزی کا گناہ نہ ہوگا، البتہ اگر اس کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم کی عدم دستیابی یا قلت کی وجہ سے عام لوگوں کو تکلیف اور مشقت کا سامنا ہو اوروہ پیداوار کسان کی ذاتی ضرورت سے زائد ہو تو ایسی صورت میں اسے عام لوگوں کو ضرر پہنچانے کا گناہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ولا يكون محتكرا إلخ) لأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة، ألا ترى أن له أن لا يزرع فكذا له أن لا يبيع هداية قال ط والظاهر أن المراد أنه لا يأثم إثم المحتكر وإن أثم بانتظار الغلاء أو القحط لنية السوء للمسلمين اهـ (ج:6،ص:399،ط:ایچ ایم سعید)۔
و فی الھدایۃ:قال: "ومن احتكر غلة ضيعته أو ما جلبه من بلد آخر فليس بمحتكر" أما الأول فلأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة؛ ألا ترى أن له أن لا يزرع فكذلك له أن لا يبيع. وأما الثاني فالمذكور قول أبي حنيفة؛ لأن حق العامة إنما يتعلق بما جمع في المصر وجلب إلى فنائها. وقال أبو يوسف: يكره لإطلاق ما روينا. وقال محمد: كل ما يجلب منه إلى المصر في الغالب فهو بمنزلة فناء المصر يحرم الاحتكار فيه لتعلق حق العامة به، بخلاف ما إذا كان البلد بعيدا لم تجر العادة بالحمل منه إلى المصر؛ لأنه لم يتعلق به حق العامة.(ج:4،ص:377،ظ:داراحیاء التراث العربی،بیروت،لبنان)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ علیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95246کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات