مصارف زکوۃ و صدقات

زکوۃ کی رقم سے میڈیکل ویلفئیر چلانے کا حکم

فتوی نمبر :
95114
| تاریخ :
2026-05-09
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

زکوۃ کی رقم سے میڈیکل ویلفئیر چلانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہم نے ایک میڈیکل ویلفیئر ٹرسٹ بنایا ہے، “پاک یونائیٹڈ میڈیکل اینڈ ایجوکیشن ویلفیئر ایسوسی ایشن” کے نام سے، جس میں ہم میڈیکل کے مختلف شعبوں کے لوگوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، اور ویلفیئر لوگوں کے چندے پر ہی جاری و ساری ہے، تو معلوم کرنا ہے کہ اس میں صدقات، زکوٰۃ خصوصاً وجوبی زکوٰۃ کا مصرف کیا ہے، اور اس کو ہم کس طریقہ پر اور کن کن مد میں استعمال کر سکتے ہیں، جو بھی شرعی حکم ہو، تفصیل سے تحریر فرمائیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زکوٰۃ اور صدقۂ واجبہ کا مصرف مستحقِ زکوٰۃافراد ہیں، چنانچہ مستحقِ زکوۃ(وہ مسلمان شخص جس کی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی یا ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان یا ان سب کا مجموعہ بقدرِ نصاب نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو،) کو یا اس کی طرف سے مقررکردہ وکیل کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ مالِ زکوٰۃ کا مالک بنانا ضروری ہے، اس کے بغیر زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ ادا نہ ہوں گے، چنانچہ زکوٰۃ و صدقاتِ واجبہ کی رقم کا مستحقین کو مالک بنائے بغیر تعلیم و صحت اور سماجی کاموں میں لگانا درست نہیں ،اسی طرح غیر مسلموں کو بھی زکوۃ کی رقم دینا جائز نہیں ، اور اس سے اصل مالکان کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ جبکہ مستحقِ زکوٰۃ افراد کی تملیک ان کی نوعیت کی وجہ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اور حالات کے موافق اس پر احکام کا منطبق کرنا بھی ایک فقہی بصیرت کا محتاج ہوتا ہے، اس لیے مذکور ویلفیئر کے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ خود سے ان احکام کی تطبیق کے بجائے مستند مفتیان کا ایک بورڈ قائم کر دیں، جس کی رہنمائی میں لوگوں کے صدقاتِ واجبہ ان کے حقیقی مصرف میں خرچ کریں، تا کہ لوگوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی بھی درست ہو سکے، اور مذکور رفاہی ادارہ جس خدمتِ خلق کے لیے قائم کیا گیا ہے، اس کا اجر بھی انہیں درست طور پر مل سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

كماقال اللةتعالى:إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ(سورةالتوبة:٦٠)
وفي مشكاة المصابيح:وعن عبد المطلب بن ربيعة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن هذه الصدقات إنما هي ‌أوساخ ‌الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد» . رواه مسلم(‌‌باب ممن لا تحل له الصدقة:الفصل الاول،ج:١،ص:١٦١،ط:قديمي كتب خانه)
وفي مرقاة المفاتيح: قال ميرك: فيه دليل على أن الصدقة تحرم عليه وعلى آله سواء كان بسبب العمل أو بسبب الفقر والمسكنة وغيرهما، وهذا هو الصحيح عندنا اھ(باب من لا تحل له الصدقة،ج:٤،ص:٣٣٥،ط:المكتبة الحقانية)
وفي البحرالرائق:(قوله وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم لحديث البخاري «نحن - أهل بيت - لا تحل لنا الصدقة» ولحديث أبي داود «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة».الخ(باب مصرف الزكاة،ج:٢،ص:٢٤٦،ط:رشيدية)
وفي الهندية:ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق(الباب السابع في المصارف،ج:١،ص:١٨٨،ط:ماجديه)
وفيها ايضاََ:ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في الكافي، وكذا لا يدفع إلى مواليهم كذا في العيني شرح الكنز. ويجوز صرف خمس الركاز والمعدن إلى فقراء بني هاشم كذا في الجوهرة النيرة(الباب السابع في المصارف،ج:١،ص:١٨٩،ط:ماجديه)
وفيها ايضاََ:إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون كذا في الخلاصة.الخ(الباب السابع في المصارف،ج:١،ص:١٩٠،ط:ماجديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95114کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عباسی خاندان کو زکوۃ دینے کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • قطب شاہی اعوان کو زکوۃ دیناجائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • ہسپتال کے سامان وغیرہ لینے کے لئے زکوۃ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • مال زکوٰۃ سے کسی کو حج کروانا

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • زکوۃ کی تملیک کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 2
  • مدرسہ کی تعمیروغیرہ میں زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • مقروض بھائی کو زکوۃ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • زکوٰۃ کے مستحق کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • بیت المال فنڈ سے سید کا علاج کروانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • اپنے استاد کو صدقہ خیرات دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • زکوۃ کی رقم سے رفاہ عام جیسے ہسپتال وغیرہ بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • کیانانی کو زکوۃ دیناجائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • اعضاء کی پیوند کاری کروانے کیلئے زکوۃ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • زکوۃ اور چرم قربانی وغیرہ سے ویلفیئر چلانا

    یونیکوڈ   اسکین   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • مستحق شخص کو نصاب سے زیادہ زکوۃ دینے کا حکم

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 4
  • زکوۃ کی رقم سے سیلاب متاثرین کی مدد کرسکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 2
  • استاد یا ملازم کو زکوۃ کی رقم سے تنخواہ دینا

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 2
  • غریب اور کچی آبادی کے اسکول میں یتیم بچوں کے لئے زکوۃ

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • کیا گھر کے ملازمین کو زکوۃ دینا منع ہے

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • مدرسہ کیلئے زکوۃ وغیرہ کی رقم لینا

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 1
  • زکوٰۃ کی رقم کا بہترین مصرف کیا ہے؟

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • زکوٰۃ کی رقم سے کنواں کھدوایا جاسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 0
  • مہتمم و ناظمِ مدرسہ کا زکوۃ کی رقم ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 4
  • رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام

    یونیکوڈ   مصارف زکوۃ و صدقات 1
Related Topics متعلقه موضوعات