میں تجارتی بنیاد پر (R.O)پلانٹ لگانا چاہتا ہوں ،جس میں بورنگ سے حاصل شدہ پانی نکال کر پلانٹ سے انتہائی جدید طریقے سے پانی کو فلٹر اور صاف کر کے جراثیم سے پاک پینے کا پانی تیارکیا جاتا ہے،اسکے بعد پانی کو بوتل میں پیک کر کے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے ،جو پلانٹ میں لگا رہا ہوں اس میں منرلز اور کیمیکلز جرمنی سے منگوایا ہوا استعمال ہوگا،(جس کی وجہ سے کڈنی اور جگر کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے)اس وقت جو شہر میں پلانٹ کام کررہے ہیں ،ان میں کوئی حفاظتی انتظامات نہیں ہوتے ،میں شریعت کی رو سے یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آیا پانی کی درج بالا طریقہ کار کے ساتھ پانی کی فروختگی کا یہ کاروبار اور منافع جائز ہے ؟
صورت مسؤلہ میں مذکور بورنگ سے حاصل شدہ پانی کو محفوظ کرنے کے بعد سائل چونکہ اس کا مالک بن جائے گا، لہذا اس پانی میں شامل ہونے والے منرل اور کیمیکلز وغیرہ پاک،حلال اور غیر مضر صحت ہو نے کے ساتھ ساتھ حلال اسٹینڈرڈز اور ملکی قوانین کی پاسداری کی رعایت کے ساتھ ہو تو (RO) پلانٹ کے ذریعے اسے صاف کر کے آگے بیچنا شرعاً درست اور جائز ، اور اس کے منافع بھی حلال ہوں گے، تاہم سائل کو چاہیے کہ اپنے اس کاروبار کی کسی مستند حلال کمپنی (فرم )سے رجسٹریشن بھی کروائے۔
کما فی الدر: (والمحرز في كوز وحب) بمهملة مضمومة الخانية (لا ينتفع به إلا بإذن صاحبه) لملكه بإحرازه اھ(فصل الشرب،ج: 6،ص: 439،مط: دار الفکر)
و فی رد المحتار: (قوله والمحرز في كوز أو حب) مثله المحرز في الصهاريج التي توضع لإحراز الماء في الدور كما حرره الرملي في فتاواه وحاشيته على البحر، وأفتى به مرارا وقال: إن الأصل قصد الإحراز وعدمه، ومما صرحوا به لو وضع رجل طستا على سطح، فاجتمع فيه ماء المطر فرفعه آخر، إن وضعه الأول لذلك فهو له وإلا فللرافع اهـ، ويشهد له ما قدمناه على القهستاني (قوله لا ينتفع به إلخ) إذ لا حق فيه لأحد كما قدمناه (قوله لملكه بإحرازه) فله بيعه ملتقى اھ(فصل الشرب،ج: 6،ص: 439،مط: دار الفکر)
و فیه ایضاً: إن صاحب البئر لایملك الماء (الی قولہ) و هذامادام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتیال، کمافي السواني (السواقی) فلاشك في ملکه له؛ لحیازته له في الکیزان، ثم صبه في البرك بعد حیازته اھ(كتاب البيوع،ج: 5،ص: 67،مط: دار الفکر)
و فی الہندیة: لا یجوز بیع الماء فی بئرہ ونہرہ،(الی قولہ) فإذا أخذہ وجعلہ فی جرّة أو ما أشبہہا من الأوعیة فقد أحرزہ فصار أحق بہ فیجوز بیعہ والتصرف فیه الخ (كتاب البيوع،باب بیع الماء والجمد،ج: 3،ص: 121،مط: دار الفکر)