مباحات

والدہ کی طرف سے بیٹی کو ھبہ کا حکم

فتوی نمبر :
94525
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

والدہ کی طرف سے بیٹی کو ھبہ کا حکم

میں ڈاکٹر حافظ صابر علی کی بڑی بیٹی کوثر پروین ہوں، میرے ابو کی وفات کے بعد میری امی نے مجھے کہا کہ میرے پاس کچھ زیور ہیں۔ وہ تم سب آپس میں بانٹ لینا۔ ہم پانچ بہنیں ہیں۔ ایک بہن کے بیٹے کی شادی میں امى نے اپنے ہاتھ سے کچھ زیور دیا تھا ۔ باقی ہم سب چار بہنوں کے بچے چھوٹے تھے، اس وقت امی نے کہا کہ : میرے پاس چار سونے کے کڑے ہیں۔ وہ تم چار بہنیں اپنے اپنے بچوں کی شادی کا تحفہ سمجھ لینا۔ اگر میں زندہ رہى تو مىں دے دوں گی، ورنہ امی نے مجھ پر ذمہ دارى لگائی کہ تم اپنی چھوٹی بہنوں کو دے دینا، اور ایک خود رکھ لینا ، یہ سب زیور میرے چھوٹے بھائی وحید کے پاس پڑا تھا۔ امی کی وفات کے بعد وہ زیور ہم بہنوں نے بانٹ لیا۔ اب یہ وراثت میں شمار ہوگا کہ نہیں ؟ امی اپنی زندگی میں یہ ہمیں دے کر گئی تھی ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال مىں ذكر كرده وضاحت كے مطابق سائلہ كى والده مرحومہ نے جو ىہ بات " میرے پاس چار سونے کے کڑے ہیں۔ وہ تم چار بہنیں اپنے اپنے بچوں کی شادی کا تحفہ سمجھ لینا۔ اگر میں زندہ رہى تو مىں دے دوں گی، ورنہ تم اپنی چھوٹی بہنوں کو دے دینا، اور ایک خود رکھ لینا " كہى ہے او ر انہوں نے اپنى زندگى مىں خود وه سونا تقسيم نہىں كىا، بلكہ تقسيم سے پہلے ہى اس كا انتقال ہوگىا، تو چونكہ اس مىں وصيت كا معنى بھى پايا جا رہا ہے، لہذا كفن دفن كے اخراجات اور قرضوں كى ادائىگى كے بعد بقىہ تركہ كے اىك تہائى كى حد تك وصيت پورى كرنا ورثاء پر لازم ہے، لہذا مرحومہ كى وصيت اىك تہائى كى حد تك تو درست ہے، البتہ اس سے زائد مىں دىگر ورثاء كى اجازت اور رضامندى لازم ہے، چناچہ اگر سب ورثاء رضامند ہوں تو ٹھىك ، ورنہ دو تہائى واپس كركے تمام ورثاء مىں تقسيم كرنا شرعا لازم ہے.

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (هي تمليك مضاف إلى ما بعد الموت) عينا كان أو دينا. قلت: يعني بطريق التبرع.إلخ (كتاب الوصايا، ج: 6، ص: 648، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار) يعني يعتبر كونه وارثه أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية على العكس إقرار المريض للوارث.اهـ (كتاب الوصايا، ج: 6، ص: 650، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94525کی تصدیق کریں
0     133
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات