احکام نماز

رفع یدین کرنے کے متعلق حضرت مفتی شفیع صاحب کے قول کا مطلب

فتوی نمبر :
94221
| تاریخ :
2026-04-15
عبادات / نماز / احکام نماز

رفع یدین کرنے کے متعلق حضرت مفتی شفیع صاحب کے قول کا مطلب

حضرت مفتی صاحب کچھ روز قبل میری نظر سے ایک پوسٹ گزری جسکا متن ذیل میں درج ہے
”مفتی محمد شفیع دیوبندی صاحب نے فرمایا ہے۔ کہ کبھی کبھی رفع یدین بھی کر لیا کرو، کیونکہ اگر قیامت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمالیا کہ تم تک میری یہ سنت بھی تو صحیح طریقہ پر پہنچی تھی تم نے
اس پر کیوں عمل نہ کیا تو کوئی جواب نہ بن پڑے گا۔ (ماہنامہ الشریعہ ۔۔ صفحہ نمبر 2 نومبر 2005)
اب مجھے جستجو ہے کہ آیا اب مجھے کیا کرنا چاہیے!
حضرت مفتی شفیع صاحب کا یہی فتویٰ ہے؟ اگر نہیں تو یہ مؤقف یا دعویٰ کتنا صحیح ہے؟ ایسا کر لینے میں کوئی حرج ہے!؟
جزاکم اللّٰہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکورہ عبارت کی حضرت مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی طرف نسبت کی ہمیں تحقیق نہیں۔ تاہم اگر یہ عبارت حضرت مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ سے ثابت ہو تو اس کی توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس سے عام حنفی مقلد کو اپنے مذہب کے خلاف رفعِ یدین کی ترغیب دینا مقصود نہیں، کیونکہ احناف کے نزدیک مقلد اپنے امام کی اتباع کا پابند ہے، اور احناف کے نزدیک تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفعِ یدین نہ کرنا راجح ہے۔ البتہ اگر کوئی محقق عالم دلائل کی بنا پر دوسرے فقہی موقف کو راجح سمجھتا ہو تو وہ اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کرسکتا ہے۔ لہٰذا ایک عام حنفی مقلد کے لیے مذکورہ منسوب عبارت کی بنیاد پر کبھی کبھار رفعِ یدین کرنے کی تلقین نہیں کی جاسکتی، بلکہ اسے اپنے مذہب کے مطابق ہی عمل کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن الترمذي: حدثنا هناد قال: حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمة، قال: قال عبد الله بن مسعود: «ألا أصلي بكم صلاة رسول الله ﷺ؟ فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة». وفي الباب عن البراء بن عازب. قال أبو عيسى: حديث ابن مسعود حديث حسن، وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ والتابعين، وهو قول سفيان الثوري، وأهل الكوفة. (2/40)
وفی الہدایہ في شرح بداية المبتدي: ولا يرفع يديه إلا في التكبيرة الأولى خلافا للشافعي رحمه الله في الركوع وفي الرفع منه لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا ترفع الأيدي إلا في سبع مواطن: تكبيرة الافتتاح، وتكبيرة القنوت، وتكبيرات العيدين، وذكر الأربع في الحج"، والذي يروى من الرفع محمول على الابتداء، كذا نقل عن ابن الزبير رضي الله عنه. (1/52)
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله إلا في سبع) أشار إلى أنه لا يرفع عند تكبيرات الانتقالات، خلافا للشافعي وأحمد، فيكره عندنا ولا يفسد الصلاة. (1/506)
وفي شرح جمع الجوامع للمعلی: والأصح أنہ یجب علی العامي وغیرہ ممن لم یبلغ رتبۃ الاجتہاد التزام مذہب معین من مذاہب المجتہدین۔ (خلاصۃ التحقیق/ ۶)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94221کی تصدیق کریں
0     63
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات