نجاسات اور پاکی

آٹو میٹک مشین میں ناپاک کپڑے دھونے سے پاکی کا حکم

فتوی نمبر :
94209
| تاریخ :
2026-04-15
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

آٹو میٹک مشین میں ناپاک کپڑے دھونے سے پاکی کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب اگر آپ کی اجازت ہو تو ایک پاکی ناپاکی سے متعلقہ مسئلہ اپ سے پوچھنا ہے آپ کی رہنمائی چاہیے اس مسئلے کے اندر؟جیسے کہ آپ کے علم میں ہوگا اج کل اٹومیٹک واشنگ مشینیں(automatic washing machine) آئی ہوئی ہیں جن میں کپڑا ایک دفعہ ڈالیں تو وہ تین دفعہ پانی نچوڑ کر کپڑا صاف کر دیتی ہیں. اس مشین کے اندر کپڑے کے اندر سے پانی ایک دفعہ آتا ہے اور پھر کپڑا دھو کر پانی دوبارہ نکل جاتا ہے پھر دوبارہ اسی طرح سے دوسری دفعہ بھی نیا پانی آتا ہے اور وہ پانی صاف کر کے دوبارہ نکل جاتا ہے پھر تیسری دفعہ بھی نیا پانی آتا ہے اور وہ صاف کر کے چلا جاتا ہے میں یہ جاننا چاہتا ہوں اس طرح کپڑے کی پاکی ناپاکی کا مسئلہ جو ہے وہ رہتا ہے یا ختم ہو جاتا ہے اگر پاک کپڑے کے اوپر نجاست لگی ہو تو وہ پاک ہو جاتا ہے کپڑا ایسے بنا نچوڑے مشین کے اندر خود ہی سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے؟ جزاک اللہ آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ناپاک کپڑوں کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کو تین مرتبہ پاک پانی سے دھویا جائے، اور ہر بار دھونے کے بعد اچھی طرح نچوڑ لیا جائے، چنانچہ یہ عمل چاہے مشین کے ذریعے کیا جائے، یا انسان خود کرے بہر صورت کپڑے پاک ہوجائیں گے، لہذا صورت ِمسئولہ میں اگر مشین تینوں دفعہ پانی تبدیل کرتے وقت کپڑے کو اس طرح نچوڑ دے کہ اس کپڑے میں مزید نجس پانی نہ رہے، یا انسانی طاقت کے مطابق نچوڑدے تو اس سے نجس کپڑا صاف سمجھا جائیگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الهندیة: وإن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات. كذا في المحيط ويشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر ويبالغ في المرة الثالثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء ويعتبر في كل شخص قوته الخ الفصل الأول في تطهير الأنجاس،ج:1،ص:41/42،مط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفیھا ایضاً: وإزالتها إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره ولا يعتبر فيه العدد. كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها ولو لم تزل بثلاثة تغسل إلى أن تزول، كذا في السراجية الخ(الفصل الأول في تطهير الأنجاس،ج:1،ص:41/42،مط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفی حاشیۃ الطحطاوی:قوله: "بزوال عنها" مقيد بما إذا صب الماء عليها أو غسلها في الماء الجاري فلو غسلها في إجانة يطهر بالثلاث إذا عصر في كل مرة كذا في الخلاصة ذكره السيد الخ(باب الأنجاس والطهارة عنها،ص159،مط:مکتبہ رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94209کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات