السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ
ہمارے فلاحی تنظیم بنام یوتھ فاؤنڈیشن اگارئ نے ایک یسیر بچی کی علاج کی خاطر (سوتیلے باپ کے عدم توجہ کیوجہ سے) بذریعہ سوشل میڈیا تعاون کی اپیل کی تھی تو عوام الناس نے خوب تعاون کرکے پیسے بھیج دیے جس سے حتی الامکان بہترین ( سرکاری و نجی)ہسپتالوں میں علاج کراکے کوششں بسیار کے باوجود بچی صحتیاب نہ ہوسکی اور فوت ہو گئ ۔
اس تعاون کی مد میں جو بقیہ رقم ہے تو کیا ہم اس کو کسی اور مستحق مریض کے علاج یا کسی اور رفاہی کام کے لیے استعمال میں لا سکتے ہیں ؟براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ:مزکورہ بالا بچی کا سوتیلا باپ صاحب نصاب اور صاحب استطاعت ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر عوام الناس سے تعاون صرف مذکورہ بچی کے علاج کے لیے طلب کیا گیا تھا، تو وصول شدہ رقم اسی متعین مقصد کے لیے مخصوص ہوگی؛ چنانچہ لوگوں کی طرف سے جمع شدہ رقم بچی کے علاج ومعالجہ پر خرچ کرنا لازم تھا، لیکن اب اگر بچی کا انتقال ہوچکا ہو اور جمع شدہ رقم میں سے کچھ باقی ہو تو وہ بچ جانے والی رقم کو کسی دوسرے مستحق مریض کے علاج یا کسی اور رفاہی کام میں صرف کرنا شرعاً جائز نہیں۔ البتہ اگر عطیہ دہندگان سے اجازت حاصل کرلی جائے یا دلالۃً ان کی طرف سے کسی اور مصرف میں خرچ کرنے کی اجازت ہو تو ان کی اجازت کے مطابق اس رقم کو دوسرے مستحق مریض کے علاج یا دیگر جائز رفاہی مصارف میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔ اس حکم میں بچی کے سوتیلے باپ کےصاحبِ نصاب اور صاحبِ استطاعت ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ دونوں صورتوں کا حکم یکساں ہے۔
كما في سنن أبي داود للسجستاني: 3596 - عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الصلح جائز بين المسلمين . زاد أحمد "إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا". وزاد سليمان بن داود وقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- "المسلمون على شروطهم". (3/ 332)
وفی ردالمحتار: شرط الواقف کنصّ الشارع. (4/433)
وفی المجلة: مادة 43 المعروف عرفا كالمشروط شرطاً أنظر المادة 472 والمادة 36 وشواهدها. (ص: 21)
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1