احکام نماز

وسوسہ کے مریض شخص کی امامت کا حکم

فتوی نمبر :
93523
| تاریخ :
2026-03-26
عبادات / نماز / احکام نماز

وسوسہ کے مریض شخص کی امامت کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم
*وسوسہ و وہم کے مرض میں مبتلا شخص کی امامت سے متعلق استفتاء*
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہمارے علاقہ ٹیکسلا میں واقع مرکزی جامع مسجد کے ایک سابقہ امام و خطیب صاحب، جو ماضی میں باقاعدہ طور پر امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں، موجودہ حالات کے پیش نظر امامت سے معزول ہیں۔ ان کے متعلق اہلِ علاقہ میں ایک تشویش پائی جاتی ہے، جس کی وضاحت مطلوب ہے۔
صورتِ حال یہ ہے کہ موصوف کچھ عرصہ سے وہم و وسوسہ (Obsessive doubts) کی کیفیت میں مبتلا ہیں، جس کے اثرات ان کے روزمرہ معمولات میں واضح طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ مثلاً:
وہ ایک ہی وقت میں کئی کئی مرتبہ وضو کرتے ہیں
طہارت کے بارے میں بار بار شک میں مبتلا ہو جاتے ہیں
نماز کے بعد اپنے کپڑوں کو مسلسل چیک کرتے رہتے ہیں کہ کہیں ناپاکی تو نہیں لگ گئی
چلتے وقت بعض غیر معمولی حرکات و اشارات کرتے ہیں
عمومی مشاہدہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ذہنی طور پر وہم اور اضطراب کی کیفیت لاحق ہے
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ادا کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
اگر مذکورہ شخص آئندہ دوبارہ امامت کروانا چاہے تو کن شرائط کے ساتھ اس کی امامت جائز ہوگی؟
اور کن صورتوں میں اس کی امامت سے اجتناب ضروری ہوگا؟
براہِ کرم اس مسئلہ کی وضاحت قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں فرمائیں، تاکہ اہلِ علاقہ کی تشویش دور ہو سکے۔
المستفتی : انتظامیہ مرکزی جامع مسجد

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں محض وہم و وسوسہ میں مبتلا ہونا امامت کے عدم جواز کا سبب نہیں، لہذا اگر مذکور شخص عاقل، بالغ، صحیح العقیدہ ہو، طہارت کے اہتمام کے ساتھ نماز کے فرائض وواجبات صحیح طور پر ادا کرتا ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا شرعاً درست ہے،البتہ اگر وسووں کی شدت اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ طہارت یا نماز کے ضروری مسائل کی رعایت نہ رکھ سکے، نماز صحیح طور پر ادا نہ کرسکے یا اس کی نماز شرعاً فاسد ہوجائے تو ایسی صورت میں اسے امام بنانا درست نہیں ہوگا، تاہم اگر اس کی امامت سے مقتدیوں میں شدید تشویش اور انتشار پیدا ہوتاہو اور کوئی مناسب متبادل موجود ہو تو ایسی صورت میں دوسرے شخص کو امام مقرر کرنا اولیٰ اور افضل ہے، لہذا محض طاہری حرکات ، کثرت وضو یا طہارت کے بارے میں شک کی بناء پر اس کی امامت کو ناجائز قرار دینا درست نہیں، چنانچہ سوال میں بیان کردہ کیفیت کے مطابق مذکور امام صاحب کو منصب امامت پر فائز کرنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في رد المحتار : تحت (قوله بشروط عشرة) وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة ‌والسلامة ‌من ‌الأعذار كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة. اهـ. (باب الإمامة، ج 1، ص 550، ط : سعيد)-
و في الموسوعة الفقهية الكويتية : يشترط في الإمام في الجملة: الإسلام والعقل اتفاقا، والبلوغ عند الجمهور، وكذلك الذكورة إذا كان المقتدون ذكورا، والسلامة من الأعذار - كرعاف وسلس البول - إذا اقتدى به أصحاء، والسلامة من عاهات اللسان - كفأفأة وتمتمة - إذا اقتدى به السليم منهما الخ (‌‌شروط المقتدى به (الإمام) ، ج 6، ص 19، ط : وزارة الأوقاف، الكويت)
و فی الدر: (ولو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون ( کتاب الصلاۃ باب الامامۃ،ج:1، ص: 559،ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93523کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات