کیا ہم خواتین گھنگروں والی چیزیں پہن سکتی ہے ،مثلاً چوڑیاں وغیرہ ؟
واضح ہو کہ عورتوں کیلئے زینت کی خاطر سونے ، چاندی، اور دیگر زیورات پہننا شرعاً جائز اور درست ہے بشرطیکہ اس کی وجہ سے فعل محظور (یعنی غیر محرم لوگوں کے توجہ کا سبب بننا یا فتنہ وفساد کا اندیشہ ہونے)کا ارتکاب لازم نہ آئے ،لہذا اگر خاتون اپنے گھر یا کمرے میں اپنے خاوند کے ساتھ ہو اور گھر میں کوئی نامحرم مرد نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کیلئے گھنگرو سمیت کوئی بھی مباح زیور کا استعمال بلاشبہ جائز اور درست ہے، تاہم اگر گھر میں غیر محرم مرد بھی موجود ہو یا وہ گھر سے باہر نکلتی ہو تو ایسی صورت گھنگرو سمیت وہ تمام زیور پہننا ممنوع ہوگا جن کے بجنے کی وجہ سے غیر محرم مردوں کی توجہ اور دیہان عورت کی طرف جاتا ہو ،البتہ عام چوڑیاں پہننے میں شرعاً کوئی حرج نہیں لیکن گھر سے باہر جاتے ہوئے پردہ شرعیہ کا پورا اہتمام لازم اور ضروری ہوگا ۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن ابن الزبير: أن مولاة لهم ذهبت بابنة الزبير إلى عمر بن الخطاب وفي رجلها أجراس فقطعها عمر وقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مع كل جرس شيطان (كتاب اللباس،الفصل الثاني،ج: 2،ص: 1256،رقم الحدیث: 4398،مط: المکتب الاسلامی)
و فی بذل المجہود: ومن الواجب أن يعلم أن هذه الكراهة فيما كان وضعه كذلك، وأما ما ليس بموضوع للصوت والجرس فلا يحرم، وإن لزم فيه التصويت أحيانا، كما يشاهد في حلي النساء إذا أكثرن منهااھ(ج: 12،ص: 259،رقم الحدیث: 4231،مط: بیروت)
و فی الفقہ الاسلامی: يجوز للنساء لبس أنواع الحلي من الذهب والفضة جميعا، كالطوق والعقد والخاتم والسوار والخلخال والتعاويذ والدمالج والقرائد والمخانق وكل ما يتخذ في العنق وغيره وكل ما يعتدن لبسه اھ(كتاب الزكاة،ج: 3،ص: 553،مط: دارالتقوی)