احکام نماز

پارکنسن اور شیزوفرینیا کی بیماری میں نماز کا حکم

فتوی نمبر :
93260
| تاریخ :
2026-03-15
عبادات / نماز / احکام نماز

پارکنسن اور شیزوفرینیا کی بیماری میں نماز کا حکم

السلام علیکم ورحمة اللّٰه و بركاته
مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ پارکنسن بیماری میں اور شیزوفرینیا بیماری میں نماز کا کیا حکم ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پارکنسن(رعشہ) کی بیماری جس میں انسان کو اعصابی نظام کی وجہ سے جسمانی کمزوری لاحق ہوتی ہے،مثلاً اس کا چلنا پھرنا یا کھڑا ہونا مشکل ہوجاتا ہے، یا أعضاء کانپتیں ہیں،لہذا پارکنسن کی بیماری کی وجہ سے اگر کوئی شخص دوران نماز کھڑے ہونے پر قادر نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے ، نماز کی ادائیگی بہر صورت اس پر لازم ہوگی، جبکہ شیزو فرینیا کی جو بیماری ہے یہ چونکہ ایک دماغی بیماری ہے،اس میں نماز کا حکم بیماری کی نوعیت پرمنحصر ہے،لہذا اگر یہ بیماری اتنی شدید ہو کہ آدمی کو اچھے برے کی تمیز نہ رہے اور نہ ہی اسے نماز اور نماز کے وقت کا ادراک ہو تو ایسی صورت میں اگر یہ بیماری اسے ایک دن اور ایک رات سے زائد مسلسل رہے،تو اس سے اس دورانیہ کی نماز ساقط ہوجائے گی،جس کی قضاء بھی اس پر لازم نہ ہوگی،لیکن اگر یہ بیماری دن کے کچھ حصہ میں رہے پھر اسے افاقہ ہوجاتا ہو،تو جتنی نمازیں اس مرض میں چھوٹ جائے،ان نمازوں کی ادائیگی بعد میں لازم ہوگی،اور اگر اس مرض کی شدت اس قدر نہ ہو تو نماز کی ادائیگی بہر حال لازم ہوگی اس میں کوتاہی کرنا جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (من تعذر عليه القيام) أي كله (لمرض) حقيقي وحده أن يلحقه بالقيام ضرر به يفتى (قبلها أو فيها) أي الفريضة (أو) حكمي بأن (خاف زيادته أو بطء برئه بقيامه أو دوران رأسه أو وجد لقيامه ألما شديدا) أو كان لو صلى قائما سلس بوله أو تعذر عليه الصوم كما مر (صلى قاعدا) ولو مستندا إلى وسادة،اھ(كتاب الصلاة،باب صلاة المريض،ج: 2،ص: 96،مط: دارالفکر)
و فی الفتاوی الھندیة: وإذا عجز المريض عن الإيماء بالرأس في ظاهر الرواية يسقط عنه فرض الصلاة ولا يعتبر الإيماء بالعينين والحاجبين ثم إذا خف مرضه هل يلزمه القضاء اختلفوا فيه قال بعضهم: إن زاد عجزه على يوم وليلة لا يلزمه القضاء وإن كان دون ذلك يلزمه كما في الإغماء وهو الأصح۔۔۔وإن مات من ذلك المرض لا شيء عليه ولا يلزمه فدية كذا في المحيط،اھ(كتاب الصلاة،الباب الرابع عشر في صلاة المريض،ج: 1،ص: 138،مط: دارالفکر)
و فیھا ایضاً: (الباب الرابع عشر في صلاة المريض) إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد، هكذا في الهداية وأصح الأقاويل في تفسير العجز أن يلحقه بالقيام ضرر وعليه الفتوى، كذا في معراج الدراية، وكذلك إذا خاف زيادة المرض أو إبطاء البرء بالقيام أو دوران الرأس،اھ(كتاب الصلاة،الباب الرابع عشر في صلاة المريض،ج: 1،ص: 136،مط: دارالفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93260کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات