منتخب نام

زمل اور عائزل نام رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
92657
| تاریخ :
0000-00-00
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / منتخب نام

زمل اور عائزل نام رکھنے کا حکم

میرا نام محمد ثاقب خان ہے اور میری بیوی کا نام عروسہ ہے۔ ہم نے اپنی پہلی بیٹی کا نام "زمل" اور دوسری بیٹی کا نام "عائزل" رکھا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا یہ دونوں نام معنی کے اعتبار سے درست اور مناسب ہیں یا نہیں؟ اگر یہ نام درست نہ ہوں تو کیا ہمیں انہیں تبدیل کرکے کوئی اور نام رکھنا چاہیے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زمل زاء کے زیر اور میم کے سکون کے ساتھ بوجھ، کمزور، سست، کے معنی میں ہے، اور زمل زاء کے پیش اور میم کے فتحہ کے ساتھ بزدل کمزور کے معنی میں آتا ہے، اس لیئے یہ نام رکھنا مناسب نہیں، البتہ زمل زاء اور لام دونوں کے فتحہ کے ساتھ تیزی کے معنی میں ہے، جبکہ عائزل کا معنی تلاش کے باوجود نہ مل سکا، لہذا سائل کے لیئے بہتر یہ ہے کہ اپنی بچیوں کے لیئے مذکور ناموں کے علاوہ صحابیات اور نیک خواتین کے ناموں میں سے کوئی نام تجویز کرے۔،

مأخَذُ الفَتوی

کما فی لسان العرب: والزمل: الکسلان والزمل والزمل والزمیل والزمیلۃ والزمال: بمعنی الضعیف الجبان الرذل؛ والزمل: الرجز؛ قال لا یغلب النازع ما دام الزمل (لسان العرب، فصل الزاء المعجمہ، ج: 11، ص: 312، ط: دار صادر بیروت)
و فی الفتاوی الھندیۃ : و فی الفتاوی التسمیۃ باسم لم یذکرہ اللہ تعالی فی عبادہ ولا ذکرہ رسول اللہ ﷺ ولا استعملہ المسلمون تکلموا فیہ والاولی ان لا یفعل کذا فی المحیط ( کتاب الکراھیۃ ، الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الاولاد و کناھم ، ج : 5 ، ص : 362 ، ط : ماجدیۃ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92657کی تصدیق کریں
0     135
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات