منتخب نام

بچے کا نام صرف محمد رکھنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
89661
| تاریخ :
2025-12-06
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / منتخب نام

بچے کا نام صرف محمد رکھنا کیسا ہے؟

السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !مفتی صاحب آپ سے ایک رہنمائی چاہیئے کہ میں نے نیت کی ہے کہ اگر میرے گھر بیٹے کی پیدائش ہوئی تو میں اسکا نام محمد رکھوں گا۔ مہربانی فرماکر رہنمائی فرمادیں کہ اس میں سے صحیح نام کون سا ہوگا جب کہ میرا نام محمد امین عرفان ہے۔ محمد، محمد بن امین ولد محمد امین عرفان يا جو آپ بہتر سمجھتے ہے کہ محمد نام رکھنے کی جو نيت ہے وہ پوری ہو جائے اور میں محمد نام صحیح طریقے سے رکھ لوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ " محمد " نام رکھنے کی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ، اس لئے سائل کا اپنے بیٹے کی پیدائش پر ا گرچہ" محمد بن امین ولد محمد امین عرفان " نام رکھنا درست ہے، لیکن صرف " محمد " نام رکھنا زیادہ بہتر اور مناسب ہے تاکہ روایت میں آنے والا لفظِ " محمد " کےمناسب ہو جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی کنز العمال: من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو ومولوده في الجنة. "الرافعي - عن أبي أمامة" (‌‌الفصل الأول في الأسماء والكنى، ج: 16، ص: 422، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
و فی جمع الجوامع للسیوطی: "مَنْ وُلِدَ لَهُ مَوْلُودٌ ذَكَرٌ فَسَمَّاهُ "مُحَمَّدًا" حُبًّا لِي وَتَبرُّكًا باسْمِي فَإِنَّه هُوَ وَمَوْلُودُه فِي الْجَنَّةِ".الرافعي عن أبي أمامة (حرف المیم، ج: 10، ص: 299، ط: الأزھر الشریف)۔
و فی رد المحتار: فلا ينافي أن اسم محمد وأحمد أحب إلى الله تعالى من جميع الأسماء، فإنه لم يختر لنبيه إلا ما هو أحب إليه هذا هو الصواب ولا يجوز حمله على الإطلاق اهـ. وورد " «من ولد له مولود فسماه محمدا كان هو ومولوده في الجنة» رواه ابن عساكر عن أمامة رفعه قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن الخ (کتاب الحظر و الاباحۃ، ج: 6، ص: 41ٍ7، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قائرات تبیک عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89661کی تصدیق کریں
0     114
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات