1. اگر میں آن لائن زکوٰۃ کسی کے جاز کیش اکاؤنٹ میں بھیجتا ہوں تو پیسے نکالتے وقت ایجنٹ کچھ سروس چارجز کاٹ لیتا ہے۔ تو کیا وہ زکوٰۃ کے پیسوں میں سے ہوں گے یا وہ الگ سے ادا کرنے ہوں گے؟
2. کیا میں اپنی پھوپھو، جو کہ میری ساس بھی ہیں، کو زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟ اُن کے شوہر دوسرے شہر میں کام کرتے ہیں جن کی تنخواہ کم ہے اور ایک بیٹا ہے جو نوکری کرتا ہے۔ اُس کی تنخواہ بھی کم ہے اور وہ اکثر چھٹیاں بھی کر لیتا ہے، جبکہ گھر کا خرچ بھی وہی بھیجتا ہے۔ شوہر جو کچھ بچتا ہے وہ بچوں کی شادیوں کے لیے بچت کر لیتے ہیں۔ ایک بیٹی غیر شادی شدہ اُن کے ساتھ رہتی ہے اور ایک شادی شدہ بیٹی ہے جس کی ایک بیٹی بھی ہے، وہ بھی شوہر کے بُرے سلوک کی وجہ سے اُن کے ساتھ رہتی ہے۔
مزید یہ کہ میری پھوپھو کو سانس کی تکلیف ہے اور اکثر طبیعت خراب رہتی ہے۔ علاج کے لیے بھی اکثر پیسے نہیں ہوتے اور کبھی کبھار دوسرے لوگ مدد کرتے ہیں تو وہ دوا لے پاتی ہیں۔ گھر کا خرچ پورا کرنے میں بھی اکثر مشکل پیش آتی ہے۔ ان کا اپنا گھر ہے جو اُن کے شوہر کے نام پر ہے۔
اس بارے میں وضاحت فرمائیں کہ کیا میں انہیں زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟ اور کیا اُن کی شادی شدہ بیٹی کو بھی الگ سے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
1۔واضح ہو کہ کسی مستحق زکوٰۃشخص کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجنےکی صورت میں شروع میں جوکٹوتی کی جاتی ہے،تواس قدررقم زکوٰۃمیں شمار کرنادرست نہیں،بلکہ مذکور رقم الگ سےبطورزکوٰۃاداکرنالازم ہے،جبکہ مستحق زکوٰۃشخص کااپنےاکاؤنٹ سے مذکوررقم نکالتےوقت جوکٹوتی ہوگی تواتنی رقم الگ سےبطورزکوٰۃنکالنا زکوٰۃدینے والےپرلازم نہیں۔
2۔سائل کی ساس اور اس کی شادی شدہ بیٹی کے پاس اگر ضرورت اصلیہ سے زائد کوئی چیز بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی ) موجود نہ ہو اور سید بھی نہ ہو تو سائل بلاشبہ زکوٰۃ کی رقم سےان دونوں کی مددکرسکتاہے۔
کما فی الفتاویٰ الھندیۃ:أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، الخ (ج:1، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، ص: 170، مط:ماجدیۃ)
وفی الدرالمختار:وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم،الخ(ج:2،ص:256،مط:سعید)
وفی ردالمحتار:تحت قول الدر(والی من بینھما ولاد)ای بینہ وبین المدفوع الیہ لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال، هداية، (الیٰ قولہ)وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة اھ(ج:2،باب مصرف الزکوٰۃ والعشر، ص:346،مط:سعید)
وفی بدائع الصنائع : ولو دفع إلى امرأة فقيرة وزوجها غني جاز في قول أبي حنيفة ومحمد وهو إحدى الروايتين عن أبي يوسف.وروي عنه أنها لا تعطي إذا قضي لها بالنفقة. وجه هذه الرواية أن نفقة المرأة تجب على زوجها فتصير غنية بغنى الزوج كالولد الصغير، وإنما شرط القضاء لها بالنفقة؛ لأن النفقة لا تصير دينا بدون القضاء.وجه ظاهر الرواية أن المرأة الفقيرة لا تعد غنية بغنى زوجها؛ لأنها لا تستحق على زوجها إلا مقدار النفقة فلا تعد بذلك القدر غنية.(ج:2، فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، ص:47،مط:سعید)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0