السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص سابقہ زندگی میں شراب نوشی کے کبیرہ گناہ میں مبتلا تھا۔ اب اللہ پاک نے اسے ہدایت دی اور اس نے اس گناہ سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ اس نے سچے دل سے توبہ و استغفار کیا ہے، گناہ پر نادم (شرمندہ) ہے اور آئندہ نہ پینے کا پکا عہد کر چکا ہے۔
دریافت طلب مسائل درج ذیل ہیں:
* توبہ اور وقت کا فاصلہ: اگر اس شخص نے "کل" شراب پی تھی اور "آج" صدقِ دل سے توبہ کر لی ہے اور اب وہ مکمل ہوش و حواس میں اور پاک صاف ہے، تو کیا توبہ کے فوراً بعد وہ نماز پڑھا سکتا ہے؟
* 40 دن کی وعید: عوامی سطح پر یہ مشہور ہے کہ شراب پینے والے کی 40 دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ کیا یہ حکم اس شخص پر بھی لاگو ہوگا جس نے سچی توبہ کر لی ہو؟ کیا توبہ کے بعد بھی اسے 40 دن تک امامت سے دور رکھا جائے گا؟
* جوازِ امامت: کیا ایسے شخص کو (جو اب متبعِ سنت بننا چاہتا ہے) محض اس کے ماضی کی بنیاد پر امامت سے روکنا درست ہے؟ کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا شرعاً جائز اور درست ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں مفصل و مدلل جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی صریح نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ سچی توبہ کرنے سے الله تعالى پچھلے وہ تمام گناہ معاف کر دیتے ہیں جس تعلق حقوق العباد کے ساتھ نہ ہو، اور ایک روایت مبارکہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والے کی مثال اس شخص کی ہے جس نے کبھی کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور شخص نے اگر واقعۃً شراب نوشی سے سچے دل سے توبہ کر لی ہو تو اب اس کا امام بننا اور نماز پڑھانا شرعاً درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،تاہم اگر اس کے امام بننے سے فساد کا خطرہ ہو، یا اس کے شراب پینے کی وجہ سے لوگوں کی اس کے ساتھ عقیدت خراب ہو گئی ہو، تو اىسی صورت میں کچھ عرصہ کے لیے امامت سے معزول بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ سائل کا 40 دن تک نماز قبول نہ ہونے والی روایت کو عوامی بات قرار دینا درست نہیں، کیونکہ یہ عوامی بات نہیں بلکہ ایک حدیث مبارکہ کا حصہ ہے، مکمل حدیث ذیل میں مع ترجمہ ملاحظہ ہو:
قال رسول الله ﷺ: «من شرب الخمر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد الرابعة لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب لم يتب الله عليه، وسقاه من نهر الخبال» قيل: يا أبا عبد الرحمن: وما نهر الخبال؟ قال: نهر من صديد أهل النار.
رسول الله ﷺ نے ارشاد فرماىا: جو شخص شراب پئے، اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ اگر دوبارہ شراب پئے تو پھر چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ پھر اگر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ اگر تیسری بار پھر شراب پئے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ لیکن اگر چوتھی بار پھر شراب پئے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، اور اگر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں فرماتا، اور اسے «نہرِ خبال» سے پلایا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: عرض کیا گیا: "اے ابو عبد الرحمن! نہرِ خبال کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ جہنمیوں کے پیپ اور بہتے ہوئے زخموں کے مواد کی ایک نہر ہے۔"
كما في التنزيل العزيز: ﴿إِنَّمَا ٱلتَّوۡبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٖ فَأُوْلَٰٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا﴾ [النساء: 17]
وفي سنن الترمذي: عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قال رسول الله ﷺ: «من شرب الخمر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد الرابعة لم يقبل الله له صلاة أربعين صباحا، فإن تاب لم يتب الله عليه، وسقاه من نهر الخبال» قيل: يا أبا عبد الرحمن: وما نهر الخبال؟ قال: نهر من صديد أهل النار، اهـ وقال الترمذي: هذا حديث حسن [أبواب الأشربة عن رسول الله ﷺ،باب ما جاء في شارب الخمر، رقم الحديث (1862) ج:3 ص:440 ط: دار الغربي الإسلامي بيروت ت: بشار]
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: قال المظهر: هذا وأمثاله مبني على الزجر وألا يسقط عنه فرض الصلاة إذا أداها بشرائطها ولكن ليس ثواب صلاة الفاسق كثواب صلاة الصالح، بل الفسق ينفي كمال الصلاة وغيرها من الطاعات، وقال النووي: إن لكل طاعة اعتبارين: أحدهما سقوط القضاء عن المؤدي، وثانيهما ترتيب حصول الثواب فعبر عن عدم ترتيب الثواب بعدم قبول الصلاة (فإن تاب) أي بالإقلاع والندامة (تاب الله عليه) أي قبل توبته اهـ [كتاب الحدود، باب بيان الخمر ووعيد شاربها، رقم الحديث (3643) ج:6 ص:2386 ط: دار الفكر بيروت)]
وفي سنن ابن ماجه: عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "التائب من الذنب كمن لا ذنب له". [أبواب الزهد، باب ذكر التوبة، ج:5 ص:320 ط: دار الرسالة العالمية ت: شعيب الأرنؤوط)]
وفي مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: و" لذا كره إمامة "الفاسق" العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب إهانته شرعاً فلا يعظم بتقديمه للإمامة وإذا تعذر منعه ينتقل عنه إلى غير مسجده للجمعة وغيرها وإن لم يقم الجمعة إلا هو تصلى معه اهـ
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح تحت قوله: (ولذا كره إمامة الفاسق) أي لما ذكر من قوله حتى إذا كان الأعرابي الخ فكراهته لأفضلية غيره عليه والمراد الفاسق بالجارحة لا بالعقيدة لأن ذا سيذكر بالمبتدع والفسق لغة خروج عن الاستقامة وهو معنى قولهم خروج الشيء عن الشيء على وجه الفساد وشرعا خروج عن طاعة الله تعالى بارتكاب كبيرة قال القهستاني أي أو إصرار على صغيرة وينبغي أن يراد بلا تأويل وإلا فيشكل بالبغاة وذلك كتمام ومراء وشارب خمر اهـ قوله: "فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة" تبع فيه الزيلعي ومفاده كون الكراهة في الفاسق تحريمية اهـ [كتاب الصلاة، باب الإمامة، فصل: في بيان الأحق بالإمامة، ص:303 ط: دار الكتب العلمية بيروت]