احکام نماز

گھٹنوں میں درد کی وجہ سے کرسی پر نماز پڑھنا اور وہیئل چئیر پر طواف کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
92576
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

گھٹنوں میں درد کی وجہ سے کرسی پر نماز پڑھنا اور وہیئل چئیر پر طواف کرنا جائز ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
امید ہے کہ تمام مفتیان کرام خیر و عافیت سے ہوں گے۔ ایک مسئلے کے متعلق دریافت کرنا تھا، وہ یہ کہ میرے دادا جی کے گھٹنوں میں سخت درد ہے اور چند ماہ پہلے آپریشن بھی کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیٹھ نہیں سکتے اور سجدہ بھی نہیں کر سکتے، البتہ عصا کے سہارے چل سکتے ہیں ،تو کیا ان کے لیے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا افضل ہے یا زمین پر بیٹھ کر؟ حالانکہ ان کے لیے زمین پر بیٹھنا بہت دشوار ہے، اسی طرح کیا طواف ان کے لیے وہیل چیئر پر کرنا جائز ہے یا پیدل کرنا ضروری ہے ؟ جبکہ پیدل طواف کرنے کے وقت ان کو تین طواف میں تین گھنٹے لگتے ہیں ۔مزید ان کے لیے چلنا بھی مشکل ہوتا تو کیا اس حالت میں ان کے لیے ویل چیئر میں طواف کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں گھٹنوں میں تکلیف کی وجہ سے اگر سائل کے دادا کیلئے زمین پر بیٹھنا اور سجدہ کرنا مشکل ہو ،تو مذکور تکلیف کی وجہ سے وہ اشارہ کیساتھ نماز ادا کر سکتا ہے ۔اور اشارے کیساتھ نماز ادا کرتے وقت فقہائے کرام نے کرسی کے بجائے زمین پر بیٹھنے کو افضل قرار دیا ہے ، تاہم زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا مشکل ہو تو وہ کرسی پر بیٹھ کر بھی اشارے سے نماز ادا کر سکتا ہے اور اس کی نماز بلا کراہت ادا ہوگی۔ اسی طرح مذکور عذر کی بناء پر انہیں دوران طواف وہیل چیئر کا استعمال بھی جائز ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:(من تعذر عليه القيام) أي كله (لمرض) (صلى قاعدا) و لو مستندا إلى وسادة أو إنسان فإنه يلزمه ذلك على المختار (كيف شاء) على المذهب لأن المرض أسقط عنه الأركان فالهيئات أولى اھ( ‌‌باب صلاة المريض: ج:2، ص:97، مطبع: دار الفكر بيروت )۔
وفی حاشية ابن عابدين:(قوله بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع و غيرها . وفي الذخيرة : رجل بحلقه خراج إن سجد سال و هو قادر على الركوع و القيام و القراءة يصلي قاعدا يومئ ؛ و لو صلى قائما بركوع و قعد و أومأ بالسجود أجزأه اھ(‌‌باب صلاة المريض ،ج:2، ص: 97،مطبع: دار الفكر بيروت )۔
وفی الفتاوی التاتارخانیة: فإن عجر عن الرکوع و السجود و قدر علی القعود فانه یصلی قاعداً بایماءٍ و یجعل السجود اخفض من الرکوع اھ (الفصل الحادی و الثلاثون فی صلاۃ المریض،ج:2،ص: 667، مطبع: مکتبة رشیدیة )۔
وفی الدر المختار: "(والبداءة بالطواف من الحجر الأسود) على الأشبه لمواظبته عليه الصلاة والسلام، وقيل: فرض، وقيل: سنة. (والتيامن فيه) أي في الطواف في الأصح (والمشي فيه لمن ليس له عذر) يمنعه منه الخ
وفی حاشية ابن عابدين: تحت(قوله: والمشي فيه إلخ) فلو تركه بلا عذر أعاده وإلا فعليه دم؛ لأن المشي واجب عندنا على هذا نص المشايخ، وهو كلام محمد الخ(کتاب الحج ،ج:2،ص:468، مطبع: دار الفكر بيروت )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92576کی تصدیق کریں
0     151
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات