احکام نماز

غسل جنابت اور شک میں پڑھی پوئی نمازوں کا حکم

فتوی نمبر :
92520
| تاریخ :
2026-02-23
عبادات / نماز / احکام نماز

غسل جنابت اور شک میں پڑھی پوئی نمازوں کا حکم

سوال نمبر 1 : غسل جنابت میں کیسے پتا چلے گا کہ نرم ہڈی تک پانی پہنچ چکا ہے؟ کیا جب ناک تلخ ہو تو یا ناک صاف ہو تو یہ علامت ہے کہ پانی ناک کی نرم ہڈی تک پہنچ چکا ہے ۔سوال نمبر 2 شک میں پڑھی گئی نمازیں دوبارہ دہرانا چاہیے کہ نہیں ؟شک ایسے مثلاً عصرکی نماز کے لیے وضو کیا تھا ،اب مغرب عشاء کے لیے وضو نہیں کیا اور وضو ٹوٹنا یاد نہیں ، شک ہے ، اسی طرح غسل جنابت میں پانی ناک کی نرم ہڈی تک پہنچا ہوگا کہ نہیں اسی حالات میں پڑھی گئی نمازیں دوبارہ لوٹانا ہوگی؟ سوال نمبر 3 پیشاب کرنے کے بعد کیسے پانی ڈالے کہ یقین ہو جائے کہ میری پاکی حاصل ہوچکی ، اللّٰہ پاک آپ کو جزائے خیر دے پلیز مفتی صاحب ان کے جوابات کے منتظر ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

غسلِ جنابت میں ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا فرض ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ناک میں اچھی طرح پانی چڑھایا جائے لہذا اگر غالب گمان ہوجائے کہ نرم حصہ تک پانی پہنچ گیا ہے،تواس سےفرض اداہوجائےگا،بلاضرورت تحقیق اور وسوسہ میں پڑنے سے احترازچاہیے۔
(2) وضو یا غسل کے بعد محض شک کی بنیاد پر نمازیں دہرانا لازم نہیں۔ لہٰذا عصر کے وضو سے مغرب و عشاء پڑھ لینے یا غسل کے بعد پڑھی گئی نمازوں کو محض شک کی وجہ سے لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
(3) پیشاب کے بعد پاکی حاصل کرنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ پیشاب رک جانے کے بعد استنجاء کرلیا جائے اور پانی بہا لیا جائے۔ اگر قطرات آنے کی عادت ہو تو تھوڑا کھانسی کرلینا یا کچھ دیر انتظار کرلینا بہتر ہے، پھر پانی ڈال کر پاکی حاصل کرلی جائے۔ اس کے بعد بلاوجہ شک اور وسوسہ میں نہ پڑیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی بدائع الصنائع: «ومن أيقن بالطهارة وشك في الحدث فهو على الطهارة، ومن أيقن بالحدث وشك في الطهارة فهو على الحدث، لأن اليقين لا يبطل بالشك»(کتاب الطھارۃ،ج:1،ص:33،ناشر:دارالکتب العلمیۃ)
وفی الھندیۃ: «في الأصل من شك في بعض وضوئه وهو أول ما شك غسل الموضع الذي شك فيه فإن وقع ذلك كثيرا لم يلتفت إليه هذا إذا كان الشك في خلال الوضوء فإن كان بعد الفراغ من الوضوء لم يلتفت إلى ذلك ومن شك في الحدث فهو على وضوئه ولو كان محدثا فشك في الطهارة فهو على حدثه ولا يعمل بالتحري. كذا في الخلاصة اھ (کتاب الطھارۃ،ج:1،ص:13،ناشر:بیروت)
وفی المبسوط للسرخسی: «قال (ومن شك في الحدث فهو على وضوئه، وإن كان محدثا فشك في الوضوء فهو على حدثه؛ لأن الشك لا يعارض اليقين، وما تيقن به لا يرتفع بالشك)الخ (باب الوضوء والغسل،ج:1،ص:86،ناشر:بیروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رمضان عبدالعلی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92520کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات