مباحات

نومولود بچہ کے بالوں کا کیا کیا جائے؟

فتوی نمبر :
92499
| تاریخ :
2026-02-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

نومولود بچہ کے بالوں کا کیا کیا جائے؟

میرا سوال AQIQA سے متعلق ہے۔ میرا بیٹا فروری 2022 میں پیدا ہوا اور اب ماشاء اللہ4 سال کا ہے۔ عقیقہ کے دوران جب ہم نے فروری 2022 میں پہلی بار اس کے بال کاٹے تو ہم نے اس کے بالوں کو بعد میں اتارنے کے لیے رکھا۔ لیکن دوسری ترجیحات کی وجہ سے اس کا بال بھی دور نہ پھینک سکا۔ کیا آپ حنفی مسالک کے مطابق رہنمائی فرما سکتے ہیں کہ میں اس کے بالوں کا کیا کروں جزاک اللہ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ انسان کے کٹے ہوئے بال اور ناخن جزِ انسانی ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں،کوڑدان یا کسی نجس جگہ پر ڈالنے میں ان کی بے احترامی ہوتی ہے اس لیے ایسی جگہوں پر ان بالوں کو ڈالنے سے تو احتراز چاہیے،البتہ بہتر یہ ہے کہ انہیں کسی کپڑے وغیرہ میں لپیٹ کر کہیں دفن کردیا جائے، اگر کسی وجہ سے یہ صورت ممکن نہ ہو تو ان بالوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کاٹ کر کہی ایک جانب کسی پاک جگہ میں ڈال دیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مصنف ابن اٰبی شیبہ: عن رجل من بني هاشم: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بدفن الشعر والظفر والدم،(ما يؤمر به الرجل إذا احتجم،ج: 14،ص: 228،رقم الحدیث: 27318،مط: دار کنوز)
و فی مرقاۃ المفاتیح: إذا قلم أظافيره أو جز شعره ينبغي أن يدفن قلامته، فإن رمى به فلا بأس، وإن ألقاه في الكنيف أو المغتسل يكره،اھ (باب الترجل،ج: 7،ص: 2815، مط: دار الفکر)
و فی رد المحتار: فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفنه ‌فإن ‌رمى ‌به ‌فلا ‌بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره لأنه يورث داء خانية ويدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم،اھ (‌‌كتاب الحظر والإباحة،ج: 6،ص: 405،مط: دار الفکر)
و فی الھندیہ: فإذا ‌قلم ‌أطفاره ‌أو ‌جز ‌شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان،(كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء،ج: 5،ص: 358،مط: دار الفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92499کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات