مباحات

مصنوعی آئی برو وغیرہ لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
92292
| تاریخ :
2026-02-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

مصنوعی آئی برو وغیرہ لگانے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ:
حضرت کیا مصنوعی آئی برو اور مصنوعی پلکیں لگانا جائز ہے زینت کیلئے ،
اور مکمل پردے میں اس قدر کہ وہ اپنی آنکھیں بھی چھپا لیں بازار جاسکتی ہے ، جب پسند کے کپڑے خریدنے ہوں،
رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مصنوعی پلکیں یا آبرو اگر کسی انسان یا خنزیر کے بالوں سے بنی ہوئی نہ ہوں، اور نہ ہی اس سے کسی کو دھوکہ دینا مقصود ہوں، توشوہر کی خاطر زیب و زینت کے لیئے اس کا استعمال جائزہے، تاہم اگر وہ مصنوعی پلکیں ایسی ہوں کہ جن کے ہوتے ہوئے کھال تک پانی پہنچنا ممکن نہ ہو اور وہ باآسانی ہٹائی بھی جاسکتی ہوں، تو ایسی صورت میں وضوء اور فرض غسل کرتے وقت ان کو ہٹانا لازم اور ضروری ہوگا، جبکہ ضرورت کے وقت (خواہ مصنوعی پلکیں لگائی گئی ہوں یا نہیں ) عورت کے لیئے مکمل پردے اور شرعی حدود اور پابندیوں کا لحاظ رکھتے ہوئے بازار جانے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن الکریم: {وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} (سورۃ الاحزاب، آیت: 33)
و فی احکام القرآن للتھانوی تحت قولہ (وقرن فی بیوتکن) فعلم ان حکم الآیۃ قرارھن فی البیوت الا لمواضع الضرورۃ الدینیۃ کالحج والعمرۃ بالنص او الدنیویۃ کعیادۃ قرابتھا، وزیارتھم او احتیاج الی النفقۃ وامثالھا بالقیاس(حکم النساء بالقرار فی البیت، ج: 3، ص: 319، ط: ادارۃ القرآن)
وفی بدائع الصنائع: ويكره للمرأة أن تصل شعر غيرها من بني آدم بشعرها لقوله - عليه الصلاة والسلام «لعن الله الواصلة والمستوصلة» ولأن الآدمي بجميع أجزائه مكرم والانتفاع بالجزء المنفصل منه إهانة له ولهذا كره بيعه ولا بأس بذلك من شعر البهيمة وصوفها لأنه انتفاع بطريق التزين بما يحتمل ذلك ولهذا احتمل الاستعمال في سائر وجوه الانتفاع فكذا في التزين اھ (کتاب الاستحسان،ج: 5، ص: 125، ط: دارالکتب العلمیہ)
وفی فقہ الاسلامی وادلتہ: قال الكاساني من الحنفية: ويكره أي كراهة تحريم للمرأة أن تصل شعر غيرها من بني آدم بشعرها، لقوله عليه الصلاة والسلام: «لعن الله الواصلة والمستوصلة» ولأن الآدمي بجميع أجزائه مكرم، ‌والانتفاع ‌بالجزء المنفصل منه إهانة له، ولهذا كره بيعه. ولا بأس بذلك من شعر البهيمة وصوفها؛ لأنه انتفاع بطريق التزين بما يحتمل ذلك، ولهذا احتمل الاستعمال في سائر وجوه الانتفاع، فكذا في التزين اھ ( باب قص المرآۃ شعرھا، ج: 4، ص: 2681، ط: دارالفکر سوریہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92292کی تصدیق کریں
0     111
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات