مباحات

جائیداد بیٹیوں کے نام کرنے اور نہ بیچنے کا پابند کرنے سے ملکیت کا حکم

فتوی نمبر :
92291
| تاریخ :
2026-02-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

جائیداد بیٹیوں کے نام کرنے اور نہ بیچنے کا پابند کرنے سے ملکیت کا حکم

السلام علیکم ورحتہ اللہ و برکاتہ
آپ سے ایک وراثت کے بارے میں فتویٰ لینا اور رہنمائی حاصل کرنی ہے۔
میرے اور میری زوجہ کے نام ایک گھر ہے۔
میری 4 بیٹیاں ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے یعنی میرے اور میری زوجہ کے نام جو تمام جائداد ہے وہ ہماری زندگی میں ان چاروں کے نام کردیں۔ کیا ہم یہ کرسکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایک دستاویز کے ذریعے ان (ہماری بیٹیوں) کو پابند کریں کہ یہ (ہماری بیٹیاں) ہماری جائدار کو ہماری زندگی میں نہ بیچیں اور نہ ہی ہمیں بے دخل کریں۔ کیا یہ کرنا ممکن اور صحیح ہوگا۔
*تفصیل میرے اور میری زوجہ کے بھائی بہنوں کی:"
میرے ایک بھائی تھے اقبال۔ میرے بھائی اور بھابھی کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی ایک بیٹی عظمٰی ہے اور تین بیٹے 1- مبشر، 2- مدثر اور 3-مزمل ہیں۔
میری پانچ (5) بہنوں 1-افسری، 2-رضیہ، 3- ثریا، 4- عطیہ اور 5- رفیعہ میں سے افسری اور رضیہ کا انتقال ہوچکا ہے۔
افسری کا ایک بیٹا طاری ہے اور دو بیٹیں 1- ہما اور 2- ثناء ہیں۔ رضیہ کے کوئی اولاد نہیں تھی اور ان شوہر بھی انتقال کرچکے ہیں۔
تین (3) بہنیں حیات ہیں ثریا کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی ایک شادی شدہ بیٹی ہے۔ عطیہ کی ایک شادی شدہ بیٹی ہے اور رفیعہ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
میری زوجہ کی ایک بہن اور چار بھائی ہیں اور سب حیات ہیں۔


آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی شریعت کیے احکامات کی روشنی میں فتوٰی مرحمت فرمائیے اور ہماری رہنمائی فرماییے۔ جزاک اللہ الخیر۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اور اسکی بیوی کی نیت اگر دیگر ورثاء کو میراث سے محروم کرنے کی نہ ہو، تو ان کے لیئے اپنی جائیداد اپنی زندگی میں ہی بیٹیوں کے نام کرکے انہیں حوالے کردینا شرعا جائز اور درست ہے، لیکن اس صورت میں جب جائیداد بیٹیوں کے حوالے کردی جائے، تو بیٹیاں شرعا اس جائیداد کی مالک بن جائیں گی، پھر سائل اور اسکی اہلیہ کے لیئے بیٹیوں کو جائیداد فروخت نہ کرنے وغیرہ کسی شرط کے پابند کرنے کا اختیار حاصل نہ ہوگا، اس لئے اگر سائل اور اسکی اہلیہ اپنی مرضی سے اپنا مال اور جائیداد اپنی بیٹیوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں، تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اگربیوی کو کچھ دینا چاہےوہ انہیں دیکر بقیہ مال و جائیداد تمام بیٹیوں کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعابھی درست اور تام ہوسکے۔ محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں۔ تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے، کہ یہ گناہ کی بات ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الهداية: شرح البداية: وتصح بالإيجاب والقبول والقبض (کتاب الھبۃ، ج: 3، ص: 401، ط: بشری)
و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ(کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 696، ط: سعید)
وفی الھندیہ: "قال أصحابنا جميعا: إذا وهب هبة وشرط فيها شرطا فاسدا فالهبة جائزة والشرط باطل كمن وهب لرجل أمة فاشترط عليه أن لا يبيعها أو شرط عليه أن يتخذها أم ولد أو أن يبيعها من فلان أو يردها عليه بعد شهر فالهبة جائزة وهذه الشروط كلها باطلة وإن وهب لرجل أمة على أن يردها عليه أو على أن يعتقها أو على أن يستولدها أو وهب له دارا أو تصدق عليه بدار على أن يرد عليه شيئا منها أو يعوضه شيئا منها فالهبة جائزة والشرط باطل، كذا في الكافي والأصل في هذا ‌أن ‌كل ‌عقد ‌من ‌شرطه ‌القبض ‌فإن ‌الشرط ‌لا ‌يفسده كالهبة والرهن، كذا في السراج الوهاج اھ(كتاب الهبة، الباب الثامن في حكم الشرط في الهبة، ج:4، ص:396، ط: رشيدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92291کی تصدیق کریں
0     108
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات