السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! حضرت اگر کوئی شخص حافظ قرآن ہے اور وہ پورے سال تو کام کرتا ہے، صرف رمضان میں امامت کراتا ہے اور تراویح میں قرآن سناتا ہے ،مثلاً : وہ شخص اس مسجد میں جس میں امامت کراتا ہے رمضان میں پچیس یا ستائیس دن تک تراویح میں قرآن بھی سناتا ہے اور پھر ختم تراویح کی دعا کے دن ہی اہل محلہ حضرات اس کو امامت کے ساتھ مزید رقم بڑھا کر دیتے ہیں ، مثلاً امامت کی تنخواہ طے ہوئی تھی دس ہزار، لیکن وہ اس امام کو پندرہ یا بیس ہزار روپے دیتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ اس شخص کو یہ رقم لینا جائز ہے یا نہیں، کیا یہ پوری رقم یا آدھی رقم قرآن سنانے کی اجرت میں داخل ہوگی ؟ برائے کرم جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں ۔نوازش ہوگی !
صورتِ مسئولہ مىں اگرمذکور حافظِ قرآن کے لیے رمضان کی امامت (بشمولِ تراویح) اجرت طے شدہ ہو، مثلاً دس ہزار روپے، تو امام صاحب کے لیےمذکور اجرت لینابلا شبہ جائز اور حلال ہے۔اس کے علاوہ ختم قرآن کے موقع پراہلِ محلہ کی جانب سے دی جانے والی رقم اگر پہلے سے مشروط یا عرفاً متعین نہ ہو، بلکہ لوگ خوش دلی سے بطورِ ہدیہ و اکرام دیں تواس کا لینا بھی جائز ہے، اوریہ قرآن سنانے کی اجرت شمار نہ ہوگی، بلکہ یہ مقتدیوں کی طرف سے امام صاحب کے ساتھ تبرع واحسان ہوگا،جس کے لینے میں شرعاًکوئی مضائقہ نہیں۔
كما فی مشكاة المصابيح: عن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ القرآن يتأكل به الناس جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم. رواه البيهقي في شعب الإيمان (كتاب فضائل القرآن، ج: 1، ص: 680، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
وفي الدر المختار: وأما شروط الإمامة فقد عدها في نور الإيضاح على حدة فقال: وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة والسلامة من الأعذار كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة اھ(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج: 1، ص: 550، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون - اهـ (كتاب الإجارة، مطلب في الاستئجار على المعاصي، ج: 6، ص: 56، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار: وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض إھ
وفي رد المحتار: (قوله: بلا عوض) أي بلا شرط عوض فهو على حذف مضاف إھ (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 687، ط: إيج إيم سعيد)