مباحات

میت کمیٹی بنانے کا حکم

فتوی نمبر :
92156
| تاریخ :
2026-02-15
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

میت کمیٹی بنانے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ :کیا فرماتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں علمائے کرام کہ ہم قریبی رشتے دار ، یعنی تمام کزنز نے آپس میں ایک تنظیم تشکیل دی ہےاور ماہانہ کچھ رقم مقرر کی ہے جو ہر ممبر لازمی دے گا جس کا مقصد یہ ہے کہ خاص طور پر فوتگی والے گھر کے پسماندہ گان کو تین دن تک مہمانوں کے کھانے پینے کی فکر سے آزاد کرنا اور اچانک ان اخراجات میں مدد کرنا ہے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا شرعی طور پر یہ درست ہے ، اگر نہیں تو درست ہونےکی کیا صورت ہو سکتی ہے؟اور یہ ماہانہ رقم ہم کس نیت سے سارے ممبر جمع کرتے رہیں، تاکہ اس کے تصرف میں کوئی قباہت نہ رہے ، رہنمائی فرمائیں ۔جزاک اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ تعاون اور تناصر ایک مستحسن عمل ہے، جس کی خوبی کسی سے مخفی نہیں، لہذا اگر کسی برادری یا اہل محلہ کے چند افراد مل کر کمیٹی / ٹرسٹ بنائیں اور پھر اس میں جمع شدہ رقم سے شرائط وضوابط کے مطابق مرحومین کی تجہیز و تکفین اور ان کے پسماندگان کے ساتھ ممکنہ تعاون کریں، تو یہ صرف جائز ہی نہیں ، بلکہ شرعاً وعرفاً ایک مستحسن عمل ہے، لہٰذا مذکور کمیٹی/ٹرسٹ اگر با قاعدہ وقف فنڈ کی بنیاد پر قائم کی جائے، اس طور پر کہ شروع میں اس کمیٹی کے کچھ ممبران مخصوص رقم وقف کر کے مستقل ایک فنڈ قائم کریں جو کہ کمیٹی کے قائم رہنے تک ( مطلوبہ ) اخراجات کے لیے استعمال نہ ہو، بلکہ وہ رقم محفوظ رہے، اس کے بعد کمیٹی/ٹرسٹ میں شامل ہونے والے افراد باہمی رضامندی سے متعین مقدار میں اس قائم کردہ وقف فنڈ میں رقم جمع کراتے رہیں، جو کہ فقہی لحاظ سے مملوکِ وقف شمار ہو گی، اور اس مملوکِ وقف (چندہ) کو کمیٹی / ٹرسٹ کی شرائط وضوابط کے مطابق مطلوبہ اخراجات میں خرچ کیا جائے، تو مذکور مقصد کے لئے درجِ بالا طریقۂ کار کے مطابق کمیٹی/ٹرسٹ بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں ، لہٰذا سائل کو بھی چاہیے کہ اسی کے مطابق طریقہ کا ر اختیار کرے۔(ازتبویب69574)

مأخَذُ الفَتوی

کما في سنن الترمذي : عن ‌عبد الله بن جعفر قال : لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه و سلم : اصنعوا لأهل جعفر طعاما ، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم هذا حديث حسن .(2/312) .
و فی سنن الكبرى البيهقي : عن أبي حرة الرقاشي ، عن عمه ، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :" لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه "(6/166)۔
و في مرقاة المفاتيح : (و عن عبد الله بن جعفر) أي : ابن أبي طالب. (قال : لما جاء نعي جعفر) (الی قوله) (قال النبي صلى الله عليه و سلم أي : لأهل بيت النبوة . (اصنعوا لآل جعفر طعاما) (الی قوله) و المعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم ، فيحصل لهم الضرر و هم لا يشعرون . قال الطيبي : دل على أنه يستحب للأقارب و الجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. و المراد طعام يشبعهم يومهم و ليلتهم ، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلا يضعفوا بتركه استحياء ، أو لفرط جزع ، و اصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ; لأنه إعانة على المعصية ، و اصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة ، بل صح عن جرير رضي الله عنه : كنا نعده من النياحة ، و هو ظاهر في التحريم . قال الغزالي : و يكره الأكل منه ، قلت : و هذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب ، و إلا فهو حرام بلا خلاف . (رواه الترمذي) و قال : حسن صحيح نقله ميرك . (و أبو داود ، و ابن ماجه) قال ميرك : رواه النسائي (3/1241).
و فی ردالمحتار : (قوله و باتخاذ طعام لهم) قال في الفتح و يستحب لجيران أهل الميت و الأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم و ليلتهم ، لقوله - صلى الله عليه و سلم -”اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم“ حسنه الترمذي و صححه الحاكم و لأنه بر و معروف ، و يلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون . اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت ۔اھ(2/240)۔
و فیه ایضاً : و لما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية و غيرها في وقف الدراهم و الدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى ؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز و قفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري و الله تعالى أعلم ، و قد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها و لم يحك خلافا . اهـ. ما في المنح قال الرملي : لكن في إلحاقها بمنقول فيه تعامل نظر إذ هي مما ينتفع بها مع بقاء عينها على ملك الواقف ، و إفتاء صاحب البحر بجواز وقفها بلا حكاية خلاف لا يدل على أنه داخل تحت قول محمد المفتى به في وقف منقول فيه تعامل ؛ لاحتمال أنه اختار قول زفر و أفتى به و ما استدل به في المنح من مسألة البقرة الآتية ممنوع بما قلنا إذ ينتفع بلبنها و سمنها مع بقاء عينها لكن إذا حكم به حاكم ارتفع الخلاف اهـ ملخصا .(4/363)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رمضان عبدالعلی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92156کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات