احکام نماز

میت کی طرف سے قضاء نمازوں کےفدیہ کاحکم

فتوی نمبر :
9209
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

میت کی طرف سے قضاء نمازوں کےفدیہ کاحکم

السلام علیکم! اگر ایک شخص اپنی زندگی میں تمام قضاء نمازیں ادا نہیں کر سکا مکمل طور پر، اگر ایسا شخص انتقال کر جاتا ہے تو اُن بقیہ قضاء نمازوں کی تلافی کیا ہوگی؟ اس کا بیٹا اللہ کی راہ میں رقم ادا کر کے ان نمازوں کا کفارہ ادا کر سکتا ہے ، اور کیا کوئی دوسرا طریقہ کفارہ ادا کرنے کا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکورہ صورت میں اگر مرحوم نے ان فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ دیدینے کی وصیت نہ کی ہو ،تو ورثاء کے ذمہ اس کا ادا کرنا واجب نہیں، تاہم مرحوم کے ورثاء میں سے اگر کوئی عاقل، بالغ وارث اپنی مرضی وخوشی سے یہ فدیہ ادا کرنا چاہے ، اور یہ ادائیگی بھی اپنے مال سے کرے مشترکہ ترکہ کے مال سے نہ کرے ، تو اس کا یہ عمل بلاشبہ جائز اور درست ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی سے اُمید کی جاسکتی ہے کہ اس فدیہ کو قبول فرما کر مرحوم سے ان نمازوں کا مؤاخذہ تر ک فرما دیں۔
پھر اس فدیہ کی مقدار یہ ہے کہ ہر فرض و واجب نماز اور روزے کا فدیہ ایک صدقہ الفطر کے برابر یعنی دو سیر گندم یا اس کی قیمت کے حساب سے ادا کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (وإن) لم يوص و (تبرع وليه به جاز) إن شاء الله ويكون الثواب للولي اختيار اھ(2/ 425)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ويكون الثواب للولي اختيار) أقول: الذي رأيته في الاختيار هكذا وإن لم يوص لا يجب على الورثة الإطعام لأنها عبادة فلا تؤدى إلا بأمره إن فعلوا ذلك جاز ويكون له ثواب اهـ(2/ 425)
وفی الفتاوى الهندية: وفي فتاوى الحجة وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز ويدفع عن كل صلاة نصف صاع حنطة منوين اھ (1/ 125)
وفی الدر المختار: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) اھ (2/ 72) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عثمان غنی بخش عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 9209کی تصدیق کریں
| | |
1     841
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات