مباحات

اعلی اور ادنی چائے پتی کو مکس کرکے بیچنے کا حکم

فتوی نمبر :
92073
| تاریخ :
2026-02-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

اعلی اور ادنی چائے پتی کو مکس کرکے بیچنے کا حکم

اسلام علیکم !میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی چائے کا کاروبار کرتا ہو، اور ایک خاص اور منفرد ذائقے بنانے کیلئےایک فارمولا کے ساتھ ساتھ قیمت کم کرنے کی غرض سے مختلف کوالٹی کے چاۓ، جو قیمت میں ایک دوسرے سے مختلف ہو ، مکس کرتا ہوجسے بلنڈنگ کہا جاتا ہے،شریعت کےرو سے حلال اور پسندیدہ ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ مختلف کوالٹی کی چائے کو ملا کرایک نیا ذائقہ یا مناسب قیمت پر پروڈکٹ تیار کرنا بلاشبہ جائز ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورشخص مختلف چائے ملا کر ایک مستقل معیارکی چائےبناکر بیچتا ہو اورگاہک کو یہ تاثر بھی نہ دیتاہوکہ یہ خالص اعلیٰ درجے کی چائے ہے ، تویہ تجارت شرعاً درست ہے۔البتہ اگر اعلیٰ کوالٹی کے نام پر کم درجے کی چائے ملا کر بیچتاہو اور گاہک کو حقیقت بھی نہ بتائی جاتی ہو، تو یہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آئے گا، جو ناجائز ہے۔جس سےبہرصورت احترازلازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في رد المحتار: (لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن، لأن الغش حرام) (قوله؛ لأن الغش حرام ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر لا نأخذ به. اه قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة. اهـ قلت: وفيه نظر؛ لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة اھ (ج:5،ص:47)
وفي البحر: كتمان عيب السلعة حرام وفي البزازية وفي الفتاوى إذا باع سلعة معيبة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته قال الصدر لا نأخذ به اهـ وقيده في الخلاصة بأن يعلم به(ج: 6، ص:38)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رمضان عبدالعلی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92073کی تصدیق کریں
0     1
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات