السلام علیکم! کیا کسی ایسے حافظ کے پیچھے تراویح پڑھنا ٹھیک ہے جو عام دنوں میں نماز نہیں پڑھتا اور شریعت کی پیروی بھی نہیں کرتا؟ اور اگر دوسری مسجد بھی موجود ہو جس کا حافظ شریعت کا پابند ہو تو کیا ہمیں اس کے پیچھے پڑھنی چاہیے یا دونوں میں کسی کے پیچھے بھی تراویح پڑھ لی جائے؟
جو حافظ فرائض کا اہتمام نہ کرتا ہو وہ شرعاً فاسق ہے اور ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں اور ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس کی بجائے کسی متبع شریعت، متقی، پرہیزگار حافظ کی اقتداء میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
ففی الدر المختار: ويكره إمامة عبد وأعرابي وفاسق وأعمى اھ (1/ 559)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك اھ (1/ 560)