السلام علیکم!اگر کوئی شخص سرکاری زمین کو ذاتی استعمال میں لا کر اس پر جانوروں کا کاروبار کرے، لیکن اس نیت کے ساتھ کہ جب بھی حکومت وہ زمین واپس مانگے گی تو وہ اسے اصل حالت میں حکومت کو واپس کر دے گا، تو کیا یہ عمل جائز ہے؟
اور کیا اس زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں جانوروں کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اگرچہ حرام نہیں کہا جا سکتا، مگر سرکاری زمین بغیر حکومت کی اجازت کے استعمال میں لانا جائز نہیں، لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ وہ یا تو اس جگہ کی استعمال کے لیے قانونی اجازت حاصل کرے یا اسے جلد از جلد اپنا ناجائز قبضہ ختم کرکے زمین متعلقہ حکام کے حوالے کر دے۔
كمافي الهندية:غصب حانوتا واتجر فيه وربح يطيب الربح كذا في الوجيز للكردري اھ(الباب الثامن في تملك الغاصب المغصوب والانتفاع به،ج:٥،ص:١٤٢،ط:ماجديه)
وفي لسان الحكام:وَفِي البزازي رجل غصب حانوتا واتجر فِيهِ وَربح يطيب لَهُ الرِّبْح لِأَنَّهُ حصل بِالتِّجَارَة اھ(الْفَصْل الْحَادِي عشر فِي الْغَصْب وَالشُّفْعَة وَالْقِسْمَة،ج:٣٠٥،ط:البابي الحلبي)
وفي المحيط البرهانى:في «فتاوى أهل سمرقند» : غصب حانوتاً وأغل فيه وربح؛ طاب له الربح؛ لأنه حصل بالتجارة اھ(الفصل العاشر في الأمر بالإتلاف،ج:٥،ص:٥٠٠،ط:دار الكتب العلمية)