مباحات

کسی برانڈ کے نام پر پراڈکٹ بناکر کاروبار کرنا

فتوی نمبر :
91731
| تاریخ :
2026-02-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

کسی برانڈ کے نام پر پراڈکٹ بناکر کاروبار کرنا

اسلام علیکم !
اگر کسی مشہور برانڈ کا گٹکا ہو، اور ہم اسی نام سے پاکستان میں وہی گٹکا بنا دیں اور بیچنا شروع کریں تو کیا یہ جائز ہے جیسے آداب گٹکا ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی مشہور برانڈ کی مصنوعات کی مثل بنا کر اس برانڈ کا نام اس نیت سے استعمال کرنا کہ خریدار دھوکہ میں پڑکر اصل چیز سمجھ کر مال خرید ے، ایسا کرنا دھوکہ دہی پر مبنی ہونے کی وجہ سےشرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے،نیز گٹکے کی خرید وفروخت قانوناً بھی جرم ہے،لہذا کسی حقیقی نام سے بھی اس کو بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی شرح سنن ابن ماجہ للھرري: عن عقبة بن عامر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "‌المسلم ‌أخو ‌المسلم، ‌لا ‌يحل ‌لمسلم باع من أخيه بيعا فيه عيب إلا بينه له،(باب: من باع عيبا فليبينه،ج: 13،ص: 150، رقم الحدیث 2209،مط: دارالمنہاج ۔)
و فی الدر: "لا يحل ‌كتمان ‌العيب في مبيع أو ثمن" لأن الغش حرام إلا في مسألتين اھ،(باب مطلب فيما يكون رضا بالعيب ويمنع الرد،ج: 5،ص: 47،مط: دارالفکر بیروت۔)
و فی رد المحتار تحت: (قوله؛ لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر لا نأخذ به. اهـ. قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة. اهـ
قلت: وفيه نظر؛ لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة، بل الظاهر في تعليل كلام الصدر أن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة، وإن كان كبيرة كما في شرب المسكر اھ،(باب مطلب في جملة ما يسقط به الخيار ،ج: 5،ص: 47،مط: دارالفکر بیروت ۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91731کی تصدیق کریں
0     79
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات