مباحات

میاں بیوی کے کمرہ میں کسی رشتہ دار کو سلانا

فتوی نمبر :
91484
| تاریخ :
2026-01-29
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

میاں بیوی کے کمرہ میں کسی رشتہ دار کو سلانا

ایک کمرہ جو میاں بیوی کا مخصوص اور ذاتی کمرہ ہو، جس میں ان کی نجی اور ذاتی اشیاء رکھی ہوں، کیا ایسے کمرے میں کسی اور عزیز کو اپنی بیوی کے ساتھ سونے کی اجازت ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

میاں بیوی کے مخصوص اور ذاتی کمرے میں کسی اور عزیز کو (خواہ وہ محرم ہی کیوں نہ ہو ) سونے کی اجازت دینا مناسب نہیں، کیونکہ اس سے پردہ و حیا کے تقاضے متاثر ہوتے ہیں ، جو کہ شریعت کی منشا کے خلاف ہے۔ البتہ اگر شدید مجبوری ہو، مثلاً رہائش کی سخت تنگی اور کوئی متبادل انتظام ممکن نہ ہو، تو وقتی طور پر حدودِ شرعیہ کی مکمل رعایت کے ساتھ اس کی گنجائش ہے، مگر بلا ضرورت ایسا کرنےسےاجتناب چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : و نفقات الزوجات المختلفۃ مختلفۃ بحالھما (و کذا تجب لھا السکنی فی بیت خال عن اھلہ) سوی طفلہ الذی لا یفھم الجماع و امتہ و امّ ولدہ (واھلھا) ولو ولدھا من غیرہ (بقدر حالھما) کطعام و کسوۃ و بیت منفرد من دار لہ غلق زاد فی الاختیار و العینی و مرافق ، و مفادہ لزوم کنیف و مطبخ ، و ینبغی الافتاء بہ (کفاھا) لحصول المقصود ھدایۃ الخ
و فی الشامیۃ تحت (قولہ و کذا تجب لھا السکنی) ای للزوجۃ السکنی ای الاسکان ، و تقدم ان اسم النفقۃ یعمھا ، لکنہ افردھا لان لھا حکما یخصھا (قولہ خال عن اھلہ) لانھا تتضرر بمشارکۃ غیرھا فیہ ، لانھا لا تأمن علی متاعھا و یمنعھا ذلک من المعاشرۃ مع زوجھا و من الاستمتاع الا ان تختار ذلک لانھا رضیت بانتقاض حقھا ھدایۃ (قولہ و مفادہ لزوم کنیف و مطبخ) ای بیت الخلاء و موضع الطبخ بان یکونا داخل البیت او فی الدار لا یشارکھا فیھما احد من اھل الدار الخ (باب النفقۃ ، ج 3، ص 599، ط : سعید)-
وفی بدائع الصنائع: ولو اراد الزوج ان یسکنھا مع ضرتھا او مع احمائھا کامّ الزوج و اختہ وبنتہ من غیرھا واقاربہ فابت ذلک علیہ ان یسکنھا فی منزل مفرد لانھن ربما یؤذینھا و یضررن بھا فی المساکنۃ و إباؤھا دلیل الأذی والضرر ولانہ یحتاج الی ان یجامعھا ویعاشرھا فی ای وقت یتفق ولا یمکنہ ذلک اذا کان معھا ثالث حتی لو کان فی الدار بیوت ففرغ لھا بیتا وجعل لبیتھا غلقا علی حدۃ قالوا انھا لیس لھا ان تطالبہ بیت آخر الخ (فصل واما شرائط وجوب ھذہ النفقۃ،ج 4، ص 23، ط :ایچ ایم سعید)-
و فی رد المحتار: تحت قولہ ( و أھلھا ) أی له منعهم من السكنى معها في بيته سواء كان ملكا له أو إجارة أو عارية، و فی حاشية الخير الرملی على البحر: له منعها من إرضاعه و تربيته، لما فی التتارخانية أنّ للزوج منعها عما يوجب خللا فی حقه، الخ (‌‌كتاب الطلاق،‌‌ باب النفقة، مطلب في مسكن الزوجة،ج 3،ص 600،ط: سعید)-
وفیہ أیضاً: تحت قولہ (ولو تبرعا لأجنبی) والذی ينبغی أن يكون له منعها عن كل عمل يؤدی إلى تنقيص حقه أو ضرره أو إلى خروجها من بيته، الخ (كتاب الطلاق،‌‌ باب النفقة، ج 3،ص 603، ط:ایچ ایم سعید)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91484کی تصدیق کریں
0     114
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات