سوال: زید ایک کمپنی میں ملازم ہے۔ کمپنی کچھ سامان چھوٹی کمپنیوں سے خریدتی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سپلائی وصول ہوتی ہے کارخانہ میں۔
کمپنی پالیسی ہے اور جنرل مینیجر اور ایڈمن کے دستخط شدہ نوٹس بھی جاری ہوا
""کہ اگر کسی چھوٹی کمپنی کا سامان (جو سپلائی کی صورت میں کارخانہ میں وصول ہوتا ہے ) چالان پر لکھی گئی تعداد سے زیادہ وصول ہوا تو وہ ضبط کر لیا جائے گا لہٰذا اپنی فیکٹری سے چالان کے مطابق چیک کر کے تسلی سے سامان کی سپلائی لائیں بصورتِ دیگر زائد سامان ضبط ہوگا""
اب اس صورتحال میں ہدایت یوں ہے کہ جس کمپنی کا یہ مسئلہ نکل آئے وہ جنرل مینیجر سے بات کر کے اپنا زائد سامان واپس لی سکتی ہے لیکن سپلائی وصول کرنے والے سٹور کو یہ اختیار نہیں کہ وہ خود سے زائد سامان واپس کرے۔ کچھ لوگ احکامِ بالا سے بات کر کے اپنا سامان چھڑا لیتے ہیں کچھ بات ہی نہیں کرتے۔
سٹور ذمہ دار کی طرف سے جنرل مینیجر کو آمنے سامنے سمجھانے کی کوشش کی جا چکی ہے کہ اس نوٹس کو ختم کر دیں لیکن کچھ نہیں بدلا۔
اب اس صورتحال میں کیا سٹور میں موجود ذمہ دار گناہ گار ہو گا ؟ یا اس معاملے کا بوجھ کارخانہ کے جنرل مینیجر یا ایڈمن کے سر ہے ؟
براہ کرم شرعی رہنمائی کریں
صورت مسؤلہ میں مذکور کمپنی کے جنرل مینیجر اور ایڈمن کا دیگر چھوٹی کمپنیوں سے( چالان پر لکھی گئی سامان سے زائد کی حصولی کی صورت میں) زائد سامان ضبط کرنے کا مذکور قانون (جو غیر کا مال بغیر اسکی اجازت اور رضامندی کے ضبط کرنے پر مشتمل ہے ) شرعاً جائز نہیں ہے ،لہذا ایسی صورت میں ا سٹور ذمہ دار نے اگر واقعۃً کمپنی کے ایڈمن اور جنرل مینیجر سے اس نوٹس کے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہو اور جنرل مینیجر اس ساری صورتحال سے باخبر ہونے کے باوجود نہ یہ نوٹس واپس لے اور نہ اس میں کوئی تبدیلی لائے ، تو ایسی صورت میں ا سٹور ذمہ دار پر کوئی گناہ نہیں ہے، بلکہ اس سارے معاملے کا بوجھ کار خانہ کی انتظامیہ (یعنی جنرل مینیجر اور ایڈمن) کے سر ہوگا ،لہذا انہیں اس غیر شرعی پالیسی کو درست کرنے کا اہتمام چاہیے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان» رواه مسلم،( باب الأمر بالمعروف،ج: 3،ص: 1421،رقم الحدیث: 5137،مط: المکتب الاسلامی)
و فی کنز العمال: لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه،(ج: 1،ص: 92،رقم الحدیث: 397،مط: مؤسسۃ الرسالۃ)
و فی رد المحتار: إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي،اھ (باب التعزير،ج: 4،ص: 61،مط: دار الفکر)
و فی الھندیہ: إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق،اھ (الباب السابع في حد القذف والتعزير،فصل في التعزير،ج: 2،ص: 167،مط: دار الفکر)
و فی الموسوعۃ الفقھیہ: الأصل أنه لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه، اھ (حال تنفيذ إذن المالك وغيره،ج: 28،ص: 296،مط: دار الصفوۃ)