نجاسات اور پاکی

بیمار شخص کیلئے ناپاک کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
91381
| تاریخ :
2026-01-26
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بیمار شخص کیلئے ناپاک کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته،
حضرت مفتی صاحب !
ایک شخص ایسے عارضے میں مبتلا ہے کہ اسے بار بار پیشاب کی حاجت پیش آتی ہے، کبھی پندرہ پندرہ منٹ کے وقفے سے اور کبھی دس منٹ کے اندر ہی۔ کیفیت یہ ہے کہ پیشاب کا دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ اکثر بیت الخلا تک پہنچنے سے پہلے ہی کپڑوں میں پیشاب بہہ جاتا ہے۔ اس بنا پر وہ دن میں کئی مرتبہ ناپاک ہو جاتا ہے، جس سے طہارت اور نماز کی ادائیگی میں شدید دشواری پیش آتی ہے ، کبھی تو نماز کے دوران ہی نماز توڑ کر جانا پڑتا ہے اور واش روم پہنچتے پہنچتے کثیر مقدار میں کپڑے میں پیشاب گر جاتا ہے، واضح رہے کہ عام طور پر اسے اتنا وقت ملتا ہے کہ نماز پڑھ سکے ،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ شخص کو بار بار کپڑا پاک کرنا ہوگا یا اسی کپڑے میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ۔
جواب مرحمت فرمائیں، اللہ تعالی آپ حضرات سے راضی ہو۔آمین

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کپڑے کا پاک ہونا نماز کی صحت کیلئےبنیادی شرط ہے،لہذا صورت مسئولہ میں مذکور شخص کو اگر اتنا وقت ملتا ہے کہ وہ اس میں وضو اور نمازادا کرسکے تو ایسا شخص شرعاً معذور نہیں کہلائےگا، لہذا اس پر لازم ہے کہ جب بھی نماز کا ارادہ کرے توکپڑے تبدیل کرے،یا پھر کپڑے کے ناپاک حصہ کو دھوکر نماز پڑھنے کا ہتمام کرے،البتہ اگرپاکی کی حالت میں فرض اور سنن دونوں پڑھنا ممکن نہ ہو تو صرف فرائض پر اکتفاء کرتے ہوئے سنن و نوافل چھوڑنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: «(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)
بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء،»(کتاب الطہارۃ،باب الحیض،مطلب فی احکام المعذور،ج:1، ص:305،ط:سعید)
وفیہ ایضاً: «(هي) ستة (طهارة بدنه) أي جسده لدخول الأطراف في الجسد دون البدن فليحفظ (من حدث) بنوعيه، وقدمه لأنه أغلظ (وخبث) مانع كذلك (وثوبه) وكذا ما يتحرك بحركته»کتاب الصلوٰۃ،باب شروط الصلوٰۃ،ج:1،ص:403،ط:سعید)
و فی الرد : وترك السنة المؤكدة قريب من الحرمة يستحق حرمان الشفاعة اهـ. ومقتضاه أن ترك السنة المؤكدة مكروه تحريما لجعله قريبا من الحرام، والمراد سنن الهدى كالجماعة والأذان والإقامة فإن تاركها مضلل ملوم كما في التحرير والمراد الترك على وجه الإصرار بلا عذر الخ(کتاب الحضر والاباحۃ،ج:6،ص:338،ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91381کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات