میں نے کپڑے کے ناپاک حصے کو لوٹے سے پانی ڈال کر دھویا۔ کچھ سیکنڈ بعد میں نے دوبارہ اس پر پانی ڈالا۔ میں نے اتنا زیادہ پانی ڈالا کہ ناپاکی بالکل ختم ہو گئی، بلکہ تین بار دھونے کے لیے جتنا پانی کافی ہوتا ہے، اس سے بھی زیادہ، لیکن میں نے کپڑا نچوڑا نہیں۔کیا کپڑا پاک ہوگیا ؟
واضح ہو کہ کپڑوں پر لگی ہوئی نجاست اگر نظر آتی ہو تو پاکی کے لیے اس کے عین کو زائل کرنا ضروری ہوگا ،جبکہ نجاست اگر نظر نہ آنے والی ہو اور اس کا عین موجود نہ ہو ،تو اس کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس جگہ نجاست لگی ہو، اس جگہ کو تین مرتبہ اس طرح دھو لیا جائے کہ ہر مرتبہ پانی ڈالنے کے بعد اچھی طرح نچوڑ لیا جائے، اس طرح تین مرتبہ کر لینے سے کپڑے پاک ہو جائیں گے۔تاہم اگر ناپاک کپڑے پر خوب پانی بہایا جائے کہ کپڑے سے نجاست کا اثر دور ہوجانے کا یقین یا ظن غالب حاصل ہوجائے تو اس سے بھی وہ کپڑا پاک ہی شمار ہوتا ہے، اگر چہ اسے تین مرتبہ نچوڑا نہ گیا ہو، لہذا صورت مسؤلہ میں اگر کپڑے کے ناپاک حصے پر اتنا پانی ڈالاگیا ہو کہ نجاست زائل ہونے کے بعد سائل کو پاکی کا اطمئنان حاصل ہوگیا ہو تو اس طرح دھونے سے کپڑےپاک ہوچکے تھے بلاوجہ شکوک وشبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
کما في الدر: (وكذا يطهر محل نجاسة) أما عينها فلا تقبل الطهارة (مرئية) بعد جفاف كدم (بقلعها) أي: بزوال عينها وأثرها ولو بمرة أو بما فوق ثلاث في الأصح اھ (باب الانجاس،ج: 1،ص: 327،مط: دار الفکر بیروت۔)
و فیہ ایضاً: (و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفاً وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد، به يفتى، (وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثاً) أو سبعاً (فيما ينعصر) مبالغاً بحيث لايقطر،الی قولہ وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقاً بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار اھ (باب الانجاس:،ج: 1،ص: 331،مط: دار الفکر بیروت۔)
و فی ردالمحتار: أن المتنجس إما أن لا يتشرب فيه أجزاء النجاسة أصلا كالأواني المتخذة من الحجر والنحاس والخزف العتيق، أو يتشرب فيه قليلا كالبدن والخف والنعل أو يتشرب كثيرا؛ ففي الأول طهارته بزوال عين النجاسة المرئية أو بالعدد على ما مر؛ وفي الثاني كذلك؛ لأن الماء يستخرج ذلك القليل فيحكم بطهارته، وأما في الثالث فإن كان مما يمكن عصره كالثياب فطهارته بالغسل والعصر إلى زوال المرئية وفي غيرها بتثليثهمااھ (باب الأنجاس: ج: 1،ص: 332،مط: دار الفکر بیروت۔)