کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ اگر کوئی مسجد ، قبلہ سے کچھ منحرف ہو تو کیا اس میں نماز ہوجائے گی؟ قبلہ سے کتنے ڈگری ہٹا ہوا ہونا معاف ہے؟ یہاں کچھ مساجد ایسی ہیں جو ۱۳ ڈگری قبلہ سے منحرف ہیں ، وہاں ہماری نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ براہِ کرم جلد از جلد جواب عنایت فرما دیں۔
مذکورہ مقدار کی حد تک منحرف ہونے سے تو صحتِ نماز پر اثر نہیں پڑتا ، البتہ کسی مسجد کا قبلہ اگر پینتالیس درجہ سے زیادہ منحرف ہو ، تو اُس کا درست کرنا لازم اور اس صورت میں اس میں نماز بھی درست نہیں ہوگی۔
فی تفسير القرطبي : تحت قوله تعالى : "فول وجهك شطر المسجد الحرام" و أجمعوا على أن كل من غاب عنها أن يستقبل ناحيتها و شطرها و تلقاءها اھ (2/ 160)۔
و فی أحكام القرآن للجصاص : و قوله تعالى [فول وجهك شطر المسجد الحرام] مع اتفاق المسلمين على أن سائر جهات الكعبة قبلة لموليها و قوله تعالى لكل وجهة هو موليها] يدل على أن الذي كلف به من غاب عن حضرة الكعبة إنما هو التوجه إلى جهتها في غالب ظنه لا إصابة محاذاتها غير زائل عنها إذ لا سبيل له إلى ذلك اھ (1/ 113)۔