مباحات

شوہر کا بیوی سے قسم کھانے کا مطالبہ کرنا

فتوی نمبر :
90920
| تاریخ :
2026-01-14
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

شوہر کا بیوی سے قسم کھانے کا مطالبہ کرنا

اَلسَّلَامُ عَلَيْكُم! اگر شوہر اپنی بیوی سے کسی بات پر قسم اٹھانے کو کہے تو بیوی کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر شوہر اپنی بیوی سے کسی بات پر قسم اٹھانے کا مطالبہ کرے تو شرعاً بیوی پر قسم اٹھانا لازم نہیں ہے،کیونکہ بلا ضرورت قسم اٹھاناشرعاًنا پسندیدہ امرہے،تاہم اگر شوہر کسی معاملے میں بیوی سے قسم کا مطالبہ کرےاور بیوی اپنی خوشی اور اختیار سے سچی بات پر قسم اٹھا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جبکہ جھوٹی قسم اٹھانا سخت گناہ ہے،جس سے بہرصورت احترازلازم ہے، لیکن اگر معاملہ معمولی ہے یا شوہر بلاوجہ بار بار قسم کا مطالبہ کرتا ہے تو بیوی کو قسم اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے اور شوہر کو بھی بلاوجہ بیوی کو قسم پر مجبور نہیں کرنا چاہیے، بلکہ باہمی اعتماد، حسنِ معاشرت اور حکمت سے معاملہ حل کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ ‌عُرْضَةً ‌لِأَيْمَانِكُمْ" (2/224)-
و فی: مشكاة المصابيح: عن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «إياكم وكثرة الحلف في البيع فإنه ينفق ثم يمحق» . رواه مسلم (2/ 850)
و فی مرقات المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: قال النووي: هذا الحديث قاعدة شريفة كلية من قواعد أحكام الشرع، ففيه أنه لا يقبل قول الإنسان فيما يدعيه بمجرد دعواه، بل يحتاج إلى بينة، أو تصديق المدعى عليه، فإن طلب يمين المدعى عليه فله ذلك، وقد بين صلى الله عليه وسلم الحكمة في كونه لا يعطى بمجرد دعواه أنه لو أعطي بمجردها لادعى قوم دماء قوم وأموالهم واستبيح، ولا يتمكن المدعى عليه من صون ماله ودمه،(کتاب الاِمارۃ و القضاء، باب الاَقضیة و الشھادات، ج:6، ص:2439، ط:دار الفكر، بيروت)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90920کی تصدیق کریں
0     126
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات