مباحات

استعمال نہ ہونے والے انٹر نیٹ کو فروخت کرنا

فتوی نمبر :
90497
| تاریخ :
2026-01-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

استعمال نہ ہونے والے انٹر نیٹ کو فروخت کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، محترم مفتیان کرام،
آج کل کچھ موبائل اور کمپیوٹر ایپس جیسے Honeygain، Pawns.app، EarnApp، TraffMonetizer وغیرہ دستیاب ہیں جن میں صارف اپنا unused internet bandwidth (یعنی جو انٹرنیٹ وہ خود استعمال نہیں کر رہا) شیئر کرتا ہے اور اس کے بدلے پیسے کماتا ہے (تقریباً $0.10 سے $0.25 فی GB)۔ ان کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ bandwidth صرف قانونی اور کاروباری مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے جیسے: مارکیٹ ریسرچ ، آن لائن پرائس کمپئریزن ، ایڈ ویریفیکیشن ، ویب سائٹس کی لوڈ ٹیسٹنگ وغیرہ ،یہ کمپنیاں کہتی ہیں کہ حرام سرگرمیوں (جیسے فحش مواد، جوا وغیرہ) کا استعمال ان کی پالیسی میں سخت ممنوع ہے اور وہ اسے مانیٹر بھی کرتی ہیں۔ تمام ڈیٹا encrypted ہوتا ہے اور صارف کا ذاتی ڈیٹا شیئر نہیں ہوتا۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شرعاً ان ایپس سے unused internet bandwidth شیئر کرکے پیسے کمانا حلال ہے یا حرام؟
کیا اس میں کوئی حرمت کا پہلو ہے کیونکہ ہمیں بالکل پتہ نہیں چلتا کہ bandwidth کا استعمال کون اور کیسے کر رہا ہے؟
براہ کرم تفصیلی شرعی حکم بتائیں۔
جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ایپس کے ذریعے اپنے" unused internet bandwidth" کو اجرت کے بدلے فراہم کرنا فی نفسہٖ ایک منفعت کرایہ پر دینے کی صورت ہے، لہٰذا اگر اس کا استعمال واقعی جائز اور قانونی دائرہ کار میں ہو تو اصل اعتبار سے اس کی گنجائش ہے۔لیکن چونکہ ان ایپس میں صارف کو عملاً یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا انٹرنیٹ کن افراد یا اداروں کے ذریعے کس مقصد کے لیے استعمال ہورہا ہے، اور عموماً ایسی سروسز VPN، proxy routing، scraping، automated traffic اور دیگر خفیہ نیٹ ورک سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہیں، جن میں بعض اوقات دھوکہ دہی، غیر قانونی رسائی، کاپی رائٹ خلاف ورزی، فحش مواد، سودی یا دیگر ناجائز سرگرمیوں کا احتمال بھی قوی ہوتا ہے، اس لیے اس معاملہ میں شدید احتیاط کی ضرورت ہے۔
لہٰذااگر کسی معتبر ذریعے سے غالب گمان ہو کہ کمپنی صرف جائز، شفاف اور قانونی استعمال تک محدود ہے، اور صارف کسی ناجائز کام میں معاون نہیں بن رہا، تو بقدرِ ضرورت اس کی محدود گنجائش ہے۔ لیکن اگر استعمال کی نوعیت مشتبہ ہو، یا صارف کو یہ علم نہ ہو کہ اس کا IP اور bandwidth کن کاموں میں استعمال ہورہا ہے، تو ایسی آمدنی سے اجتناب بہتر ہے،خصوصاً اگر ان سروسز کے ذریعے کسی غیر قانونی یا حرام کام میں معاونت ثابت ہوجائے تو پھر اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز ہوگی۔ لہٰذا موجودہ زمانہ کے پیچیدہ ڈیجیٹل ماحول کو دیکھتے ہوئے احتیاط اسی میں ہے کہ ایسی ایپس سے اجتناب کیا جائے، یا صرف انہی کمپنیوں تک محدود رہا جائے جن کی سرگرمیاں واضح، شفاف اور قابلِ اعتماد ہوں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في القرآن الكريم: ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ﴾ [سورة المائدة: 2]
وفی الدر المختار: (و) ‌جاز (‌بيع ‌عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (معزيا للنهر) قال فيه من باب البغاة وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب ممن يتخذ منه المعازف اھ [كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغيره، فصل في البيع، ج:6 ص:391 ط سعيد]
وفي المعائر الشرعية: يجوز إنشاء المواقع التجارية على شبكة الإنترنت بشرط خلوها مما هو محرم شرعاً، كالترويج لسلع أو خدمات أو أنشطة محرمة أو استخدام أدوات ووسائل محرمة في الترويج لسلع أو خدمات أو أنشطة مباحة [التعاملات المالية بالإنترنت، إنشاء المواقع التجارية على الإنترنت وإبرام العقود المالية بواسطتها، ج:1 ص:961 ط: AAOIFI]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90497کی تصدیق کریں
1     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات