مباحات

نقصان پہنچانے والے شخص سے قطع تعلقی کرنے اور حدیث کا حکم

فتوی نمبر :
90478
| تاریخ :
2026-01-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

نقصان پہنچانے والے شخص سے قطع تعلقی کرنے اور حدیث کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، میں ایک مسلمان خاتون کے حوالے سے سوال پوچھنا چاہتی ہوں جو میرے بہت قریب تھی، اور باوجود اس کے کہ ہم نے ایک ساتھ بہت اچھا وقت گزارا، تحائف کا تبادلہ کیا اور نجی معاملات شیئر کیے، اس نے یہ کہہ دیا کہ "وہ مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتی"۔ اس نے میری دوستی کو ٹھکرا دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے اپنا دوست بنائے، اور ایک معمولی سے اختلاف پر میرے ساتھ بہت مغرورانہ رویہ اختیار کیا۔ اس نے مجھ پر الزامات لگانا اور میرے کردار پر شک کرنا شروع کر دیا... اور یہ سب دوبارہ ایک معمولی سے اختلاف کی وجہ سے ہوا۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا اس حدیث کو جانتے ہوئے مجھے اس سے قطع تعلق (تعلق ختم کرنے) کی اجازت ہے:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ بائیکاٹ (بول چال بند) کرے۔ جب وہ دونوں ملیں تو یہ ادھر منہ پھیر لے اور وہ ادھر منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔"(صحیح بخاری: 6077، صحیح مسلم: 2560) تفصیلات اور جو کچھ ہوا وہ یہ ہے:میری روم میٹ (کمرے میں ساتھ رہنے والی) اور میرے درمیان ایک اختلاف ہوا جو بحث کی شکل اختیار کر گیا۔ اس نے پہلے آواز اونچی کی، اور بدقسمتی سے میں نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔ اس دوران اس نے مجھ پر بناوٹ اور منافقت کا الزام لگایا اور ایک معمولی بات پر بار بار میری نیت پر شک کیا (کیونکہ میں اس بات پر پریشان تھی کہ وہ رات دیر گئے، میرے لیپ ٹاپ استعمال کرنے پر ناراض ہو رہی تھی، جبکہ مجھے ایک اہم کام جمع کروانا تھا)۔ میں تسلیم کرتی ہوں کہ اس وقت دونوں طرف جذبات غالب تھے۔جب میں نے مشورہ دیا کہ ہم پرسکون ہو جائیں اور معاملہ نجی طور پر حل کریں، تو اس نے انکار کر دیا اور اونچی آواز میں بولتی رہی۔ پھر اس نے مطالبہ کیا کہ میں کمرہ چھوڑ دوں، یہ کہتے ہوئے کہ یہ اس کے نام پر ہے، حالانکہ اس وقت مالی مشکلات کی وجہ سے میرے پاس جانے کی کوئی اور جگہ نہیں تھی۔ میں نے اپنی صورتحال واضح کی اور پرسکون گفتگو کی درخواست کی، لیکن وہ مجھے نکالنے پر بضد رہی۔اس کے بعد اس نے میری علمی یا رضامندی کے بغیر ایک تیسری خاتون (جو کہ مسیحی تھی) کو اس میں شامل کر لیا۔ وہ خاتون اسے اپنے گھر لے گئی، اور یہ مسئلہ جو اصل میں نجی تھا، مزید بڑھ گیا۔ بعد میں وہ خاتون ہماری رہائش گاہ پر آئی اور اس وقت اندر داخل ہوئی، جب میں ایک کمزور حالت میں تھی، اس نے میری راز داری کا کوئی خیال نہیں رکھا۔مزید برآں، میری روم میٹ نے اپنے گھر والوں بشمول والدین سے میرے بارے میں منفی باتیں کیں، اور میرے پس منظر اور شہریت کے حوالے سے جملے کسے۔ ان اقدامات نے مجھے شدید ذہنی و جذباتی تکلیف پہنچائی۔اگرچہ میری روم میٹ نے بعد میں دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کا رویہ بدستور بے اعتباری اور جذباتی عدم استحکام کی عکاسی کرتا رہا۔ اس نے میری نیت پر سوال اٹھائے، جب میں نے فاصلہ رکھنے کی کوشش کی تو دشمنی والا ردعمل دیا، اور دوسروں کو شامل کرنا جاری رکھا۔ اس وجہ سے، میں نے اپنی جذباتی صحت کی حفاظت اور مزید نقصان سے بچنے کے لیے خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا۔میرا مقصد ناراضگی کی وجہ سے تعلقات توڑنا نہیں تھا، بلکہ صلح کی کوششوں سے سکون نہ ملنے کے بعد مسلسل تنازع سے بچنا تھا۔ میں اس بات کی وضاحت چاہتی ہوں کہ کیا اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ فاصلہ برقرار رکھنا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی مسلمان کے ساتھ قطع تعلق کی جو وعید احادیث مبارکہ میں بیان ہوئی ہے، محدثین عظام نے اس کی تشریح کرتے ہوئے ىہ تفصیل بیان کی کہ اس سے مراد وہ قطع تعلق ہے جس کی بنیاد دشمنى، نفرت اور بغض وعناد ہو، ورنہ اگر کسی دوسرے شخص سے دینی یا دنیاوی ضرر کا اند یشہ ہو، تو ایسے شخص کےساتھ دشمنی اور نفرت والا رویہ رکھے بغیر اپنی جان اور عزت کے تحفظ کی خاطر دوری اختیار کرنا شرعا جائز ہے اور یہ اس حدیث کی مخالفت میں داخل نہیں، لہذا سائلہ کو اگر مذکور روم میٹت سے واقعةً ایذا و کردار کشی اور دیگر مصائب پہنچنے کا اندیشہ ہو، تو اس سے دوری اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مرقاة المفاتيح: (عن أبي أيوب الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل لرجل أن يهجر» ) بضم الجيم (أخاه) أي: المسلم، وهو أعم من أخوة القرابة والصحابة. قال الطيبي: وتخصيصه بالذكر إشعار بالعلية، والمراد به أخوة الإسلام، ويفهم منه أنه إن خالف هذه الشريطة وقطع هذه الرابطة جاز هجرانه فوق ثلاثة اهـ. وفيه أنه حينئذ يحب هجرانه (إلى قوله) وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما، وقد هجر نساءه شهرا وهجرت عائشة ابن الزبير مدة، وهجر جماعة من الصحابة جماعة منهم، وماتوا متهاجرين، ولعل أحد الأمرين منسوخ بالآخر. (إلى قوله) ويمكن أن يقال الهجرة المحرمة إنما تكون مع العداوة والشحناء، كما يدل عليه الحديث الذي يليه، فغيرها إما مباح أو خلاف الأولى.اهـ (كتاب الآداب، ج: 8، ص: 758، 759، ط: مكتبة حقانية، بِشاور)
وفي إرشاد الساري لشرح البخاري: قال الطبري: وهذه القصة أصل في هجران أهل المعاصي، أي: نحو الفاسق والمبتدع، وإنما لم يهجر الكافر مع كونه أشد جرما؛ لأن الهجرة تكون بالقلب واللسان، فالكافر بالقلب. اهـ (باب الهجرة، ج: 17، ص: 525، ط: دار عطاءات العلم - دار ابن حزم)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90478کی تصدیق کریں
0     144
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات