مباحات

آسٹریلیا میں فوڈ ڈیلیوری کی ملازمت کا حکم

فتوی نمبر :
90462
| تاریخ :
2026-01-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

آسٹریلیا میں فوڈ ڈیلیوری کی ملازمت کا حکم

کیا آسٹریلیا میں فوڈ ڈیلیوری کی نوکری کرنا حلال ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

آسٹریلیا میں فوڈ ڈیلیوری(گاہک کوکھانا پہنچانا) کی ملازمت اگرجائزاورحلال چیزوں کی ڈیلوری تک محدودہوتو، یہ نوکری جائزاورحلال ہے، لیکن اگرمذکور کام کسی حرام چیز (مثلا خنزیر کا گوشت یا شراب وغیرہ) کی ترسیل پر مشتمل ہو یا دورانِ ڈیوٹی اس قسم کی ڈیلیوری پرمجبورکیاجاتاہو،تومذکورملازمت ناجائزاوراس سے ملنے والی تنخواہ بھی حرام ہوگی، تاہم اگرسائل دوران ملازمت حرام اشیاءکی ڈیلیوری سےانکار کرے توصرف حلال اشیاء کی ڈیلیوری کی حدتک خودکومحدود کرلینے کی صورت میں مذکورملازمت اختیارکرنے کی گنجائش ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار ورد المحتار: (و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر). وفي الرد: (قوله وحمل خمر ذمي) قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه – عليه الصلاة والسلام – «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة علی الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول علی الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلی هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعی له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره."(كتاب الحظر والإباحة، 6/ 392 ، ط: سعید)-
و فی بذل المجھود: "ومتفق عليه أن كل اُجرة تكون علی فعل المعصية تكون حراما." (کتاب ا لإجارة ، باب في كسب الحجام ، 129/11،مكتبه :دارالبشائر بيروت)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90462کی تصدیق کریں
0     276
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات