السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
عورت سر کے بال کتنا اور کب کاٹ سکتی ہے ؟ کیا عمرے کر کر کے پستانوں تک پہنچ جائیں تو کیا عمرہ کرسکتی ہے اور بال کاٹ سکتی ہے اور پستان سے مراد کیا ہے ابتداء وسط یا نیچے تک
اور
مرد کے بال کتنے لمبے ہوسکتے ہیں مسنون نام اور لمبائیاں کیا ہیں
جزاکم اللہ خیرا
واضح ہو کہ عورت کے سر کے بال اس کی زینت ہیں اس لیے بلا ضرورت شرعی وطبعی اس کا کاٹنا جائز نہیں، تاہم شرعی و طبعی ضرورت کے تحت بال کاٹنے کی اجازت ہے، تاہم حج یا عمرہ کی ادائیگی کے بعد تحلل حاصل کرنے کی غرض سے سر کے کم از کم چوتھائی بالوں سے ایک پورے (انگلی کا تہائی حصہ)کی بقدر قصر کرنا لازم ہے، نیز بالوں کا پستانوں تک یا اس سے زائد لمبا ہونا عمرہ کی صحت میں مانع نہیں، عورت ایسی حالت میں بھی عمرہ کر سکتی ہے، جبکہ فقہی و عرفی اصطلاح میں پستان سے مراد سینے کا درمیانی ابھرا ہوا حصہ ہے، مرد کے لیے سر کے بال رکھنا جائز ہے، بشرطیکہ صفائی اور ترتیب کا اہتمام ہو اور عورتوں یا فاسقوں سے مشابہت نہ پائی جائے، جبکہ احادیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی تین مسنون صورتیں منقول ہیں،(1)وفرہ: (کانوں کی لو تک)(2)لمہ: ( کانوں سے نیچے اور کندھوں سے اوپر تک) (3) جمہ: ( کندھوں تک) البتہ قزع یعنی آدھا سر منڈوانا اور آدھا چھوڑ دینا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح البخاری : عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء، و والمتشبهات من النساء بالرجال،(باب: المتشبهين بالنساء، والمتشبهات بالرجال،ج: 5،ص: 2207،رقم الحدیث: 5546،مط: دار ابن کثیر)
فیه ایضا : عن قتادة قال:سألت أنس بن مالك رضي الله عنه عن شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: كان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا ليس بالسبط ولا الجعد، بين أذنيه وعاتقه (باب الجعد،ج: 5،ص: 217،رقم الحدیث: 5905،مط: دار ابن کثیر)
و فی مسند أحمد: حدثنا إسماعيل، أخبرنا حميد الطويل، عن أنس قال: كان شعر النبي صلى الله عليه وسلم إلى أنصاف أذنيه،(حديث أبي رمثة رضي الله عنه،ج: 19،ص: 172،رقم الحدیث: 12118،مط: مؤسسۃ الرسالۃ)
و فی رد المحتار: (قوله بأن يأخذ إلخ) قال في البحر: والمراد بالتقصير أن يأخذ الرجل والمرأة من رءوس شعر ربع الرأس مقدار الأنملة كذا ذكره الزيلعي، ومراده أن يأخذ من كل شعرة مقدار الأنملة كما صرح به في المحيط اھ(كتاب الحج،مطلب في رمي جمرة العقبة،ج: 2،ص: 516،مط: دار الفکر بیروت)