بارات کا شرعی حکم جس میں کم از کم تین حوالے ہو صرف بارات کا حکم درکار ہے بارات پر کھانے کا نہیں
واضح ہو کہ آجکل زمانہ میں رخصتی کے لیے بہت سارے امور کو لازم سمجھاجاتاہے، مثلاً لڑکی کی رخصتی کے لیے باقاعدہ بارات کا اہتمام کرنا،وہاں کھانے کا انتظام کرنا ، شریعت مطہرہ میں بس اتنی بات کافی ہے کہ چند افراد دلہن کے گھر چلے جائیں ، اور نکاح کرا کر دلہن کو ساتھ لے آئیں جیساکہ نبی کریم ﷺاور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے نکاحوں میں رخصتی سے متعلق عمومی انداز یہی معلوم ہوتاہے ،لہذا اگرلڑکے والوں کی طرف سے چند افراد دلہن کو لینے چلے جائیں اور دلہن والے بغیر التزام کے حسب معمول ان کا کچھ اکرام کریں تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ، مگر مروجہ بارات کی صورت جو کئی شرعی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مذ موم اور واجب الترک ہے،جس سے احتراز لازم ہے ۔
كمافي صحيح مسلم: عن عائشة. قالت:تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم لست سنين. وبنى بي وأنا بنت تسع سنين. قالت: فقدمنا المدينة فوعكت شهرا. فوفى شعري جميمة. فأتتني أم رومان، وأنا على أرجوحة، ومعي صواحبي. فصرخت بي فأتيتها. وما أدري ما تريد بي. فأخذت بيدي. فأوقفتني على الباب. فقلت: هه هه. حتى ذهب نفسي. فأدخلتني بيتا. فإذا نسوة من الأنصار. فقلن: على الخير والبركة. وعلى خير طائر. فأسلمتني إليهن. فغسلن رأسي وأصلحني. فلم يرعني إلا ورسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى. فأسلمنني إليه ،اھ(ج:٢ باب تزويج اب البكر :ص: ١٠٣٨ ناشر : المطبعۃ عیسی)
وفي حاشیۃ ابن العابدین: كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار،الخ(فصل فی البیع ،ج:6 ص: 395 ناشر : سعید )