مباحات

چائے کیلئے ملنے والے پیسے کسی اور ضرورت میں خرچ کرنا

فتوی نمبر :
90306
| تاریخ :
2025-12-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

چائے کیلئے ملنے والے پیسے کسی اور ضرورت میں خرچ کرنا

محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میں ایک مدرسہ میں شعبہ حفظ و ناظرہ کا مدرس ہوں اور وہیں رہائش پذیر ہوں۔ میری صورتحال درج ذیل ہے: میں مدرسہ سے تدریس کے بدلے باقاعدہ تنخواہ وصول کرتا ہوں۔ مدرسہ میں 20 طلباء مقیم ہیں جو گھروں سے کھانا (روٹی) جمع کر کے لاتے ہیں۔ اس جمع شدہ کھانے میں سے جو زائد (بچی ہوئی) روٹی ہوتی ہے، میں اسے سکھا کر بازار میں فروخت کر دیتا ہوں اور حاصل ہونے والی رقم طلباء کی ضروریات پر ہی خرچ کرتا ہوں۔ میں مدرسہ سے کھانے کا کوئی الگ خرچہ نہیں لیتا، البتہ مدرسہ کی طرف سے روزانہ "چائے کی مد" میں ایک مخصوص رقم لیتا ہوں۔
مسئلہ:میں وہ رقم (چائے کے پیسے) وصول کر لیتا ہوں، لیکن اس سے چائے نہیں منگواتا بلکہ وہ پیسے اپنی جیب میں رکھ لیتا ہوں (یعنی پیسے لے لیتا ہوں لیکن خرچ نہیں کرتا)۔
سوال:کیا میرے لیے چائے کے نام پر یہ پیسے لے کر (بغیر چائے پیے) ذاتی استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے؟ یا اس کے لیے مجھے انتظامیہ یا طلباء سے اجازت لینی ہوگی؟
براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل کیلئے مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر چائے کی مدد میں ملنے والی رقم کو چائے کی ضرورت کے علاوہ اپنی دیگر ضروریات میں صرف کرنے کی گنجائش ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفقه الإسلامي وأدلته: الملكية أو الملك: علاقة بين الإنسان والمال أقرها الشرع تجعله مختصاً به، ويتصرف فيه بكل التصرفات ما لم يوجد مانع من التصرف. [(6/ 4545)]
وقيه أيضا: و‌‌الفرق بين الإباحة والملك هو: أن الملك يكسب صاحبه حق التصرف في الشيء المملوك ما لم يوجد مانع. أما الإباحة: فهي حق الإنسان بأن ينتفع بنفسه بشيء بموجب إذن. والإذن قد يكون من المالك كركوب سيارته، أو من الشرع كالانتفاع بالمرافق العامة. [(6/ 4553)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90306کی تصدیق کریں
1     147
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات