مباحات

گاڑی میں رہ جانے والا سامان استعمال کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
90250
| تاریخ :
2025-12-23
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

گاڑی میں رہ جانے والا سامان استعمال کرنے کا حکم

میرا شوہر ایک نجی ڈرائیور ہے۔ تقریبا پانچ ماہ پہلے کچھ مسافروں نے اس کی گاڑی میں اپنا کچھ سامان چھوڑ دیا تھا، اس عرصہ کے دوران ہم ان سے رابطہ نہیں کر سکے اور نہ ہی ان تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ موجود ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت حال میں ہم اس سامان کو استعمال کر سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے سامان بطور حفاظت اور مالک کو پہنچانے کی نیت سے اپنے پاس رکھا تو یہ اس کے پاس امانت ہے اور اس پر لازم ہے کہ ہر ممکن طریقہ اور واسطے کو استعمال کر کے اس سامان کو مالک تک پہنچانے کی کوشش کرے۔ البتہ اب اگر اتنی مدت گزر گئی ہو کہ مالک کے ملنے کی امید ختم ہو چکی ہو جبکہ مالک تک پہنچنے کے ممکنہ ذرائع بھی بروئے کار لا چکے ہوں تو اصل حکم یہ ہے کہ مالک کی طرف سے صدقہ کی نیت کرتے ہوئے کسی مستحق زکوۃ شخص کو دے دیا جائے اور اگر سائلہ کے شوہر خود بھی مستحق ہوں تو اس کے لیے بھی شرعاً گنجائش ہے کہ وہ مذکور سامان کو استعمال میں لے آئے۔ تاہم بہر صورت اگر وہ سامان صدقہ کرنے یا اپنے استعمال میں لانے کے بعد کسی وقت اصل مالک یا اس کے وارث سامنے آجائیں اور وہ اپنے سامان کا مطالبہ کریں تو سائلہ کے شوہر پر اس سامان کی قیمت ادا کرنا لازم ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: إن كان الملتقط محتاجاً فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولدهٖ أو زوجته إذا كانوا فقراء كذا في الكافي.(ج:2،ص:219،مط:ماجدية).

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90250کی تصدیق کریں
0     117
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات